31367 (من مسند أبي ثعلبة) : لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت : يا رسول الله ! ادفعني إلى رجل حسن التعليم ! فدفعني إلى أبي عبيدة بن الجراح ثم قال : قد دفعتك إلى رجل يحسن تعليمك وأدبك ! فأتين أبا عبيدة وهو وبشير بن سعد أو النعمان بن بشير يتحدثان فلما رأياني سكتا فقلت : يا أبا عبيدة ! والله ما هكذا أوصاك رسول الله صلى الله عليه وسلم ! فقال : إنك جئت ونحن نتحدث حديثا سمعناه من رسول صلى الله عليه وسلم فاجلس حتى نحدثك ! فقال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن فيكم النبوة ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ، ثم يكون ملكا وجبرية.
(أبو نعيم في المعرفة).
31367 ۔۔۔ (مسند ابی ثعلبہ) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا اور عرض کی یارسول اللہ مجھے ایسے آدمی کے حوالے کیجئے جو بہت اجھا معلم ہو۔ تو آپ عبید السلام نے مجھے ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے ہوا نے فرمادیا اور پھر ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہیں ایسے آدمی کے سپرد کیا ہے جو تمہاری اچھی تعلیم و تربیت کرے۔
چنانچہ میں ابوعیبد (رض) کے پاس آگیا اس وقت ابوعبیدہ اور بشیر بن سعد باتیں کررہے تھے جب انھوں نے مجھے دیکھاتو خاموش ہوگئے ۔ میں نے کہا اے ابوعبیدہ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کی تو وصیت بہتر کی تھی تو انھوں نے کہا جب آپ آئے توہم ایک حدیث کا تذکرہ کررہے تھے جو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی آپ بیٹھ جائیں آپ کو بھی سنادیتے ہیں اور پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ بیشک تم میں نبوت کا زمانہ ہوگا پھر اس کے بعد نبوت کے طریقہ پر خلافت ہوگی اور اس کے بعد بادشاہت اور استباء اور زمانہ آجائے گا۔ ابونعیم فی المعرثہ