31382 عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن بين يدي الساعة لهرجا ! قالوا : وما الهرج ؟ قال : القتل والكذب ، قالوا : يا رسول الله ! قد أكثر مما يقتل الان من الكفار ، قال : إنه ليس بقتلكم الكفار ولكن يقتل بعضكم حتى يقتل الرجل جاره وأخاه وابن عمه ، فأبلس القوم حتى ما يبدي الرجل منها عن واضحة فقلنا ومعنا عقولنا يومئذ ؟ قال : ينزع عقول أكثر أهل ذلك الزمان ويخلف هباء من الناس يحسب أحدهم أنهم على شئ وليسوا على شئ.
(ش ونعيم ابن حماد في الفتن).
31382 ۔۔۔ انھیں سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت سے پہلے ہرج بہت زیادہ ہوگا پوچھا گیا کہ یہ ہرج کیا ہے ؟ فرمایا قتل جھوٹ لوگوں نے کہا آج کل جو کفار قتل ہورہے ہیں کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ قتل اس طرح نہیں ہوگا کہ تم کفار کو قتل کروگے بلکہ تم ایک دوسرے کو قتل کروگے یہاں تک کہ آدمی اپنے پڑوسی اپنے بھائی اور چچازاد کو قتل کرے گا۔
تو لوگ حیران وششدررہ گئے اور ان کے چہروں سے ہنسی کے آثر غائب ہوگئے پھر ہم نے کہا : کیا اس وقت ہمارے اندر عقل موجود ہوگی ارشاد فرمایا : اس زمانے کے اکثر لوگوں کو عقلیں سلپ کرلی جائیں گی اور خساوخاشاک کی طرح لوگ ۔ (بےعقل و حیثیت ) ہوں گے وہ سمجھیں گے ہم کچھ ہیں حالانکہ وہ کچھ نہیں ہوں گے۔ ابن ابی شیبة نعیم بن حماد