31383 عن طاوس أن رجلا اعترض لابي موسى الاشعري فقال : هذه الفتنة التي كانت تذكر وقال حين افترق هو وعمرو بن العاص حين حكما فقال أبو موسى : ما هذه إلا حيصة من حيصات الفتن وبقيت الزداح المطبقة ، من أشرف لها أشرفت له ، القاعد فيها خير من القائم ، والقائم خير من الماشي ، والماشي خير من الساعي ، والصامة خير من المتكلم ، والنائم خير من المستيقظ.
(نعيم).
31383 ۔۔۔ حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوموسیٰ اور حضرت عمروبن عاص (رض) حکم بنائے جانے کے بعد جدا ہوئے تو ایک آدمی ابوموسیٰ (رض) کے سامنے آیا اور کہنے لگایہی وہ فتنہ ہے کہ جس کا ذکر کیا جاتا تھا حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا یہ توفتنوں کی ایک جھلک ہے گھیرلینے والی عظیم فتنے ابھی آنے ہیں جو آدمی ان کے درپے ہوگا ان کا شکار ہوجائے گا ان فتنوں پر بیٹھنے والا کھڑے سے کھڑا چلنے والے سے چلنے والا دوڑنے والے سے خاموش بات کرنے والے سے اور سونے والا جاگنی والے سے بہتر ۔ رواہ ابونعیم