31807- إنكم ستجندون أجنادا ويكون لكم ذمة وخراج وأرض يمنحها الله لكم منها ما يكون على شفير البحر مدائن وقصور فمن أدركه ذلك منكم فاستطاع أن يحبس نفسه في مدينة من تلك المدائن أو قصر من تلك القصور حتى يدركه الموت فليفعل. "أبو حاتم في الوحدان والبغوي وابن عساكر - عن عروة بن رويم عن شيخ من جرش - عن سليمان عن رجل من الصحابة".
31807 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ تم لشکرکشی کروگے تمہارے لیے معاہدے خراج اور زمینیں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ تمہیں عطا فرمائیں گے ان میں کچھ دریا کے کنارے ہوں گی شہر محلات جو تم میں سے وہ زمانہ پائے تو تم میں سے جس کو قدرت حاصل ہو کہ اپنے نفس کو ان شہروں میں سے کسی شہر میں ان محلات میں سے کسی محل میں اپنے کو محبوس کرے یہاں تک موت واقع ہوجائے تو ایسا کرے ۔ (ابوحاتم فی الوحدان البغوی وابن عساکر بروایت عروہ بن رویم وہ اپنے شیخ جرش سے وہ سیلمان سے وہ ایک صحابی (رض) سے)