hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 33148

.

كنز العمال

33148
Kanz al-Ummal
33138- يا أصحاب محمد! لقد أراني الله الليلة منازلكم في الجنة وقدر منازلكم من منزلي، يا علي! ألا ترضى أن يكون منزلك مقابل منزلي في الجنة؟ فإن منزلك في الجنة مقابل منزلي؛ يا أبا بكر! إني لأعرف رجلا باسمه واسم أبيه وأمه إذا أتى باب الجنة لم يبق باب من أبوابها ولا غرفة من غرفها إلا قال له: مرحبا! هو أبو بكر بن أبي قحافة؛ يا عمر! لقد رأيت في الجنة قصرا من درة بيضاء مشرفة من لؤلؤ أبيض مشيد بالياقوت فأعجبني حسنه فقلت: يا رضوان! لمن هذا القصر؟ فقال: لفتى من قريش فظننته لي فذهبت لأدخله فقال لي رضوان: إن هذا لعمر ابن الخطاب، فلولا غيرتك يا أبا حفص لدخلته، يا عثمان! إن لكل نبي رفيقا في الجنة وأنت رفيقي في الجنة، يا طلحة ويا زبير! إن لكل نبي حواريا وأنتما حواري؛ يا عبد الرحمن لقد بطؤ بك عني حتى لقد خشيت أن تكون قد هلكت ثم جئت وقد عرقت عرقا شديدا فقلت لك ما بطأ بك عني؟ لقد خشيت أن تكون قد هلكت، فقلت: يا رسول الله كثرة مالي، ما زلت موقوفا محتبسا أسأل عن مال: من أين اكتسبته؟ وفيما أنفقته. "طب وابن عساكر - عن عبد الله بن أبي أوفى؛ وفيه عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن عمار بن سيف يرويان المناكير".
33129 ۔۔۔ اے محمد کے صحابہ ! اللہ نے آج کی رات مجھے جنت میں تمہارے ٹھکانے دکھلائے اور تمہارے گھروں کا میرے گھر سے فاصلہ بھی دکھلا دیا اے علی کیا آپ کو یہ پسند نہیں کہ آپ کا گھر جنت میں میرے گھر کے سامنے ہو تو سن لو کہ تمہارا گھر جنت میں میرے گھر کے سامنے ہے اے ابوبکر ! میں ایک شخص کو اس کے اور اس کے ماں باپ کے نام سے جانتاہوں کہ جب وہ جنت کہ کسی دروازہ کی طرف بڑھے گا تو جنت کا ہر دروازہ اور ہر کمرہ اس کو مرحبا کہے گا اور وہ ابوبکر بن ابی قحافہ ہے اے عمر ! میں نے جنت میں سفید موتیوں کا ایک محل دیکھا جو سفید لولو سے زیادہ چمکدار تھا یاقوت سے مضبوط بنایا گیا تھا ۔ مجھے اس کی خوبصورتی نے تعجب میں ڈالاتو میں نے کہا اے رضوان یہ کس کا محل ہے ؟ اس نے جواب دیا یہ ایک قریش نوجوان کے لیے ہے میں نے اس کو اپنے لیے سمجھا اور اس میں داخل ہونے لگا تورضوان مجھ سے کہنے لگایہ عمر بن خطاب کا ہے اے ابوحفص اگر آپ کے پاس نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہوجاتا۔
اے عثمان ! جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ہوگا اور میرے ساتھی تم ہوگے اور طلحہ اور زبیر ! ہر نبی کا ایک حواری۔ (مددگار) ہوتا ہے اور میرے حواری تم دونوں ہو۔
اے عبدالرحمن تو نے مجھ تک آنے میں دیر کردی یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم ہلاک ہوگئے ہو پھر تم آگئے اور تم پسینے میں شرابور تھے تو میں نے تم سے کہا کہ تم نے آنے میں اتنی دیر کیوں کی کہ مجھے خوف محسوس ہونے لگا کہ تم ہلاک ہوگئے ہو تو تم نے کہا اے اللہ کے رسول میرے مال کی کثرت کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی میں کھڑا حساب دے رہا تھا اور مجھ سے مال کے بارے میں پوچھا جارہا تھا کہ تو نے کہاں سے اسے کمایا ؟ اور کہاں خرچ کیا۔
طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عساکر نے عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کیا ہے اور اس میں عبدالرحمن بن محمد المجاربی بھی ہیں جن سے عماربن سیف نے روایت کیا ہے دونوں منا کر کو روایت کرتے ہیں۔