hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 33178

.

كنز العمال

33178
Kanz al-Ummal
33168 أريت أني دخلت الجنة فسمعت خشفة بين يدي فقلت : من هذا يا جبريل ؟ فقال : بلال المؤذن ، فنظرت فإذا أعالي أهل الجنة فقراء المهاجرين وذراري المؤمنين ، وإذا فيها ليس أحد من الاغنياء والنساء فقلت : ما لي لا أرى فيها أحد أقل من الاغنياء والنساء ؟ فقال لي : أما الاغنياء فانهم على الباب يحاسبون ويمحصون ، وأما النساء فألهاهن الاحمران الذهب والحرير ، فخرجنا من أحد الثمانية أبواب ، فإذا أنا بالميزان فوضعت في كفة وأمتي في كفة فرجحت بها ، ثم جئ بأبي برك فوضع في كفة وأمتي في كفة فرجح بها ، ثم جئ بعمر فوضع في كفة وأمتي في كفة فرجح بها ، ثم جعلوا يعرضون على أمتي رجلال رجلا فاستبطأت عبد الرحمن ابن عوف فلم أره إلا بعد إياسه ، فلما رآني بكى ، قلت : عبد الرحمن بن عوف ما يبكيك ؟ قال : والذي بعثك بالحق ! ما رأيتك حتى ظننت أني لا أراك أبدا إلا بعد المشيبات ، قلت : وما ذاك ؟ قال : من كثرة مالي مازلت أحاسب بعدك وأمحص.(حم وهناد والحكيم ، طب ، كر - عن أبي أمامة ، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات).
33158 ۔۔۔ مجھے دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہواہوں پس میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی میں نے کہا اے جبرائیل ! یہ کون ہے تو جبرائیل نے جواب دیا موذن بلال سو میں نے دیکھا کہ اہل جنت میں فقر اء مہاجرین اور مومنین کی اولاد بلند درجے پر ہے اور وہاں مالداروں اور عورتوں میں سے کوئی نہیں ہے تو میں نے کہا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ میں یہاں مالداروں اور عورتوں میں سے کسی کو نہیں دیکھ رہاتو جبرائیل نے مجھے جواب دیا کہ مالداروں کا تو دروازے پر حساب کتاب اور امتحان لیاجارہا ہے اور ہی بات عورتوں کی تو ان کی دوسری چیزوں یعنی سونا اور ریشم نے غافل کیا ہوا ہے پھر ہم جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے سے نکلے تو کیا دیکھتاہوں کہ میزان کے پاس ہوں پھر ایک پلڑے میں مجھے رکھ دیا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو تو میرا پلڑا امت کے مقابلے میں بھاری ہوگیا پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو تو ابوبکر کا پلڑا امت کے مقابلے میں وزنی ہوگیا پھر عمر کو لایا گیا اور ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے میں میری میری امت کو تو عمر کا پلڑا امت کے مقابلے میں بھاری ہوگیا پھر ان سب کو میری امت پر ایک ایک کرکے پیش کیا جانے لگا تو میں عبدالرحمن بن عوف کو بہت ست پایا میں نے ان کو ناامید ہوجانے کے بعد دیکھا پس جب انھوں نے مجھ کو دیکھا تو روپڑے۔ میں نے کہا : عبدالرحمن بن عوف تجھے کس چیز نے رلادیا ؟ تو اس نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں نے آپ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ اب میں آپ کو بڑھاپے سے پہلے کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا تو میں نے کہا وہ کیوں ؟ تو اس نے جواب دیا : آپ کے بعد میرے مال کی کثرت کی سے مسلسل میرا حساب وکتاب ہوتا رہا اور میری جانچ پڑتال ہورہی ہے (احمد بن حنبل ، ھناد حکیم ، طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابن عساکر نے ابی امامتہ سے روایت کیا اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا ہے)