33651 لقد رأيت هذا - يعني مصعب بن عمير - عند أبويه بمكةيكرمانه وينعمانه وما فتى من فتيان قريش مثله ، ثم خرج من ذلك ابتغاء مرضاة الله تعالى ونصرة رسوله ، أما ! إنه لا يأتي عليكم إلا كذا وكذا حتى يفتح عليكم فارس والروم فيغدو أحدكم في حلة ويروح في حلة أخرى ويغدي عليكم بقصعة ويراح عليكم بأخرى ، قالوا : يا رسول الله ! نحن اليوم خير أو ذلك اليوم ؟ قال : بل أنتم اليوم خير ، أما ! لو تعلمونمن الدنيا ما أعلم لاستراحت أنفسكم منها.
(ك - عن الزبير)
33647 ۔۔۔ میں نے اس کو یعنی مصعب بن عمیر کو مکہ میں اس کے والدین کے پاس رہتے ہوئے دیکھا جو اس کا خیال رکھتے اور اس کو نازونعم میں پاتے تھے اور قریش کا کوئی نوجوان اس کی طرح کا نہیں تھا پھر وہ اس حالت سے اللہ کی رضاجوئی اور اس کے رسول کی مدد کے لیے نکلا جان لو کہ اس طرح کے حالات تم پر آئیں گے کہ تم پر روم اور فارس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے پھر تم میں سے ایک صبح کے وقت ایک جوڑا پہنے گا اور شام کو دوسرا ناشتہ ایک برتن میں کرے گا اور شام کا کھانا دوسرے برتن میں کھائے گا تو صحابہ فرمانے لگے اے اللہ کے رسول ہم آج کے دن بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا بلکہ تمہاری یہ حالت زیادہ بہتر ہے خبردار ! اگر تم دنیا کے بارے میں وہ باتیں جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم اس سے پناہ مانگتے ۔ (حاکم نے زبیر سے روایت کیا ہے)