3409- "ينزل الله تعالى في آخر ثلاث ساعات يبقين من الليل فينظر الله في الساعة الأولى منهن في الكتاب، الذي لا ينظر فيه غيره فيمحو ما يشاء ويثبت، ثم ينظر في الساعة الثانية جنات عدن، وهي مسكنه الذي يسكن لا يكون معه فيها أحد إلا الأنبياء والشهداء والصديقون، وفيها ما لم يره أحد، ولا خطر على قلب بشر، ثم يهبط آخر ساعة من الليل، فيقول: ألا مستغفر يستغفرني فأغفر له، ألا سائل يسألني فأعطيه، ألا داع يدعوني فأستجيب له، حتى يطلع الفجر، وذلك قوله: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوداً} فيشهده الله، وملائكة الليل والنهار". "ابن جرير وابن أبي حاتم طب وابن مردويه عن أبي الدرداء".
3409: رات کی آخری تین گھڑیوں میں پروردگار عزوجل اترتے ہیں اور پہلی گھڑی میں کتاب (تقدیر) میں نظر فرماتے ہیں جو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں۔ دوسری گھڑی میں جنات عدن میں نظر فرماتے ہیں یہ وہ مسکن ہے جس میں رہنے والا انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ رہے گا۔ اس میں وہ نعمتیں ہیں جو کسی نے نہیں دیکھیں، نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گذرا۔ پھر پروردگار آخری گھڑی میں اترتے ہیں اور فرماتے ہیں : کوئی مغفرت چاہنے والا نہیں ہے میں اس کی مغفرت کروں۔ کوئی سائل نہیں ہے میں اس کا سوال پورا کروں۔ کوئی دعا مانگنے والا نہیں اس کی دعا قبول کروں۔ حتی کہ پھر فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ اور یہ خدا کا فرمان ہے :
وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا۔ الاسراء : 78 ۔
پس اللہ، رات کے ملائکہ اور دن کے ملائکہ اس وقت جلوہ افروز ہوتے ہیں : (ابن جریر، ابن ابی حاتم، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ عن الدرداء (رض) )
کلام : المتناہیہ 21 ۔