34676- "إن الله عز وجل حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسول الله والمؤمنين؛ ألا! فإنها لم تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي، ألا! وإنها حلت لي ساعة من نهار، ألا! وإنها ساعتي هذه حرام لا يختلى شوكها ولا يعضد شجرها ولا تلتقط ساقطتها إلا لمنشد: هو من قتل له قتيل فهو بخير النظرين: إما أن يعقل وإما أن يقاد أهل القتيل، فقال رجل: يا رسول الله! إلا الإذخر. " حم، ش، خ، د - عن أبي هريرة" مر برقم -
34676 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو اس پر قدرت دی خبردار ! مکہ مجھ سے پہلے نہ کسی کے لیے حلا ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا ، خبردار میرے لیے دن کے کچھ وقت میں حلا ہوا، خبردار وہ مکہ میرے اس وقت سے حرام ہے نہ اس کے کانٹے چنے جائیں گے اور نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا مگر اعلان کرنے والے کے لیے (اجازت ہوگی) وہ شخص جس کا کوئی شخص جس کا کوئی شخص قتل کردیا جائے تو وہ دوفکروں میں سے بہتر کو اختیار کرے یا دیت دے یا مقتول کے ورثہ کو قصاص دے ایک شخص نے عر ض کیا : اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر اوخر۔ (احمد بن حنبل ابن ابی شیبة بخاری ابوداؤد بروایت ابوہریرة ) یہ حدیث 34651 میں گذر چکی ہے۔