35050- "سل عمود الإسلام من تحت رأسي فأوحشني، ثم رميت ببصري فإذا هو قد غرز في وسط الشام، فقيل لي: يا محمد! إن الله عز وجل قد اختار لك الشام ولعباده فجعلها لكم عزا ومحشرا ومنعة وذكرا، من أراد الله به خيرا أسكنه الشام وأعطاه نصيبه منها، ومن أراد به شرا أخرج سهما من كنانته وهي معلقة في وسط الشام فرماه بها فلم يسلم في دنيا ولا آخرة. " ابن عساكر - عن عائشة".
35050 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سر کے نیچے سے اسلام کا ستون سونتا گیا تو میں اس کی وجہ سے وحشت میں پڑگیا پھر میں نے اپنی نظر لگائی تو وہ شام کے درمیان نصب کیا جاچکا تھا پھر مجھ سے کہا گیا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شام کو منتخب فرمایا ہے اور آپ کے بندوں کے لیے سو اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے لیے عزت اور جمع ہونے اور رکاوٹ اور یاد (کا ذریعہ) بنایا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بہتری کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو شام میں ٹھہراتے ہیں اور شام سے اس کو اس کا حصہ دیتے ہیں اور جس کے ساتھ برائی کا ارادہ کریں تو اپنی ترکش سے جو شام میں ہے ایک تیر نکالتے ہیں پھر اس کو اس پر پھینک دیتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سلامت نہیں رہتا۔ (تاریخ ابن عساکر بروایت عائشہ (رض))