35356- عن قتادة قال: تزوج أم كلثوم ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم عتيبة بن عبد العزى أبي لهب فلم يبن بها حتى بعث النبي صلى الله عليه وسلم وكانت رقية ابنة النبي صلى الله عليه وسلم تحت عتبة أخي عتيبة، فلما انزل الله {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} قال أبو لهب لابنيه عتيبة وعتبة: رأسي من رأسكما حرام إن لم تطلقا ابنتي محمد! وسأل النبي صلى الله عليه وسلم عتبة طلاق رقية وسألته رقية ذلك، فقالت له أمه - وهي حمالة الحطب -: طلقها يا بني! فإنها قد صبت ، فطلقها وطلق عتيبة أم كلثوم وجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم حيث فارق أم كلثوم وقال: كفرت بدينك، وفارقت ابنتك، لا تحبني ولا أحبك؛ ثم سطا عليه فشق قميص النبي صلى الله عليه وسلم وهو خارج نحو الشام تاجرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أما أني أسأل الله أن يسلط عليك كلبه"! فخرج في نفر من قريش حتى نزلوا بمكان من الشام يقال له الزرقاء ليلا، فأطاف بهم الأسد تلك الليلة، فجعل عتيبة يقول: يا ويل أمي! هو والله آكلي كما دعا محمد علي، ألا! قاتلي ابن أبي كبشة وهو بمكة وأنا بالشام، فعدا عليه الأسد من بين القوم فأخذ برأسه فضغمه ضغمة فمزعه. فتزوج عثمان بن عفان رقية فتوفيت عنده ولم تلد له. "كر".
35356 ۔۔۔ حضرت قتادة سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی ام کلثوم (رض) سے عتبیہ بن عبدالعزی ابولھب نے شادی کی اس نے ان کے ساتھ رفاف نہیں کیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت مل گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی رقیہ (رض) عتیبہ کے بھائی عتبہ کے نکاح میں تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے سورة لھب ( تبت یدابی لھب) نازل فرمائی تو ابولھب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتبیہ سے کہا : میرا سر تم دونوں کے سر سے حرام ہے اگر تم دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیوں طلاق نہ دو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عتبہ نے رقیہ (رض) کو طلاق کا پوچھا اور رقیہ (رض) نے ان سے اس کا سوال کیا اس سے عتبہ سے اس کی ماں جوحمالة الحطب کا مصداق ہے نے کہا : اے بیٹے اس کو طلاق دے اس لیے کہ یہ صابی ہوگئے تو اسنے ان کو طلاق دے دی اور عتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جس وقت وہ ام کلثوم (رض) سے علیحدہ ہوگیا اور کہا : میں نے آپ کے دین کا انکار کیا اور آپ کی بیٹی سے علیحدہ ہوگیا آپ مجھے سے محبت نہ کریں اور نہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں پھر آپ پر حملہ کیا اور ان کی قمیص پھاڑ دی اور وہ شام تجارت کے لیے جارہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خبردار میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کتے کو تجھ پر مسلط کرے پھر وہ قریش کی ایک جماعت کے ساتھ نکل گیا یہاں تک انھوں نے شام کی ایک جگہ جسے زرقاء کہا جاتا ہے رات کے وقت پڑاؤ ڈالا تو ان پر شیر نے اس رات چکر لگا عتیبہ کہنے لگا اے میری مال کی ہلاکت وہ اللہ کی قسم مجھے کھائے گا جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بددعا کی خبردار میرا قاتل ابوکبشہ کا بیٹا ہے اور وہ مکہ میں ہے اور میں شام میں ہوں تو لوگوں کے سامنے شیرنے اس پر حملہ کیا اور اس کے سر کو پکڑا اور سخت چبایا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا پھر حضرت عثمان بن عفان (رض) نے رقیہ (رض) سے نکاح کیا اور ان کے ہاں وفات پائی اور ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ (تاریخ ابن عساکر)