35357- عن عيسى بن يزيد قال: قال أبو بكر الصديق: كنت جالسا بفناء الكعبة وكان زيد بن عمرو بن نفيل قاعدا فمر به أمية بن الصلت فقال: كيف أصبحت يا باغي الخير؟ قال: بخير، قال: وجدت؟ قال: لا، فقال: كل دين يوم القيامة إلا ما قضى الله في الحنيفية بور ، أما! إن هذا النبي الذي ينتظر منا أو منكم ولم أكن سمعت قبل ذلك بنبي ينتظر ولا يبعث، فخرجت أريد ورقة بن نوفل وكان كثير النظر إلى السماء، كثير همهمة الصدر، فاستوقفته ثم قصصت عليه الحديث، فقال: نعم يا ابن أخي! إنا أهل الكتب والعلماء إلا أن هذا النبي الذي ينتظر من أوسط العرب نسبا ولي علم بالنسب وقومك أوسط العرب نسبا، قلت: يا عم! وما يقول النبي؟ قال: يقول ما قيل له إلا أنه لا يظلم ولا يظالم؛ فلما بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم آمنت به وصدقت. "كر؛ وهو منقطع".
35357 ۔۔۔ عیسیٰ بن یزید سے روایت ہے انھوں نے کہا حضرت ابوبکر الصدیق (رض) نے فرمایا میں کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا اور عمروبن نفیل بیٹھے ہوئے تھے امیہ بن الصلت ان کے پاس سے گذرا اور کہا اے خیر کی متلاشی آپ نے کیسے صبح کی انھوں نے کہا خیریت سے تو اس نے کہا آپ نے پالیا ؟ اس نے کہا نہیں پھر اس نے کہا : قیامت کے دن سارے دین ہلاکت کا ذریعہ ہوں گے سوائے اس دین حنفیت کے جس کا اللہ نے فیصلہ فرمایا ہے وہ نبی جس کا ہم سے یا تم میں سے (ہونے کا) انتظار کیا جارہا ہے اور میں نے اس سے پہلے کبھی کسی نبی کے بارے میں نہیں سنا جس کا انتظار کیا جارہا ہے جس کو بھیجا جائے گا تو میں نکلا ورقہ بن نوفل کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا وہ بہت آسمان کے طرف دیکھتے تھے اور ان کے سینے سے بہت غم کی آواز آتی تھی پھر میں نے ان سے کھڑے ہونے کا کہا اور ان کو سارا قصہ بیان کیا تو انھوں نے کہا جی ہاں اے میرے بھیجتے ہم اہل کتاب اور علماء ہیں مگر یہ نبی جس کا انتظار کیا جارہا ہے عرب کے درمیانے نسب والے قبیلے سے ہوگا اور مجھے نسب کا علم ہے آور آپ کی قوم درمیانی نسب والی ہے۔ میں نے کہا اے میرے چچا نبی کیا کہے گا تو انھوں نے کہا کہ وہ باتیں کہے گا جو اسے کہی جائے گی نہ تو وہ ظلم کرے گا پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو میں ان پر ایمان لایا اور ان کی تصدیق کی ۔ (تاریخ ابن عساکر یہ حدیث منقطع ہے)