35361- عن أبي عذبة الحضرمي قال: جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فأخبره أن أهل العراق قد حصبوا إمامهم وكان عوضهم به مكان إمام كان قبله، فخرج غضبان فصلى فسها في صلاته، فلما سلم قال: يا أهل الشام! استعدوا لأهل العراق فإن الشيطان قد باض فيهم، اللهم! إنهم قد ألبسوا علي فألبس عليهم وعجل عليهم بالغلام الثقفي الذي يحكم بحكم الجاهلية، لا يقبل من محسنهم ولا يتجاوز عن مسيئهم، قال ابن لهيعة: وما ولد الحجاج يومئذ. "ابن سعد في الدلائل. وقال: لا يقول ذلك عمر إلا توقيفا".
35361 ۔۔۔ ابوعذیہ الخصرمی سے روایت ہے فرمایا ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ن کو بتایا کہ عراق والوں نے اپنے امام کو پتھر مارے اور حضرت عمر (رض) نے ان کو اس امام کی جگہ جو اس سے پہلے تھا بدلہ میں بھیجا تھا تو حضرت عمر (رض) کی حالت میں نکلے نماز پڑھی اور اپنی نماز میں پھول گئے جب سلام پھیرا فرمایا اے شام والو عراق والوں کے لیے تیار ہوجاؤ اس لیے کہ شیطان ان میں گھس آیا ہے اے اللہ انھوں نے مجھ پر معاملہ مثتبہ کیا آپ بھی ان پر ان کا معاملہ مشتبہ کردیں اور ان پر ثقفی غلام جلدی بھیج دیں جو ان پر جاہلیت کے فیصلے کرے اور نہ ان کی اچھائیاں قبول کرے اور نہ ان کی برائیوں سے درگذر نہ کرے ابن لھیعہ نے کہا اس دن حجاپیدا نہیں ہوا تھا۔(ابن سعدالدلائل اور فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے یہ بات توفیقا فرمائی ہے)