35387- عن عمرو بن العاص قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم واليا على عمان فأتيتها، فخرج إلي أساقفتهم ورهبانهم فقالوا: من أنت؟ فقلت: أنا عمرو بن العاص بن وائل السهمي رجل من قريش، قالوا: ومن بعثك؟ قلت: رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: ومن هو؟ قلت: محمد بن عبد الله بن عبد المطلب رجل منا قد عرفناه وعرفنا نسبه، قد أمرنا بمكارم الأخلاق ونهانا عن مساويها، وأمرنا أن نعبد الله وحده، قال: فصيروا أمرهم إلى رجل منهم فقال لي: هل به من علامة؟ قلت: نعم، لحم متراكب بين كتفيه يقال له خاتم النبوة، قال: فهل يأكل الصدقة؟ قلت: لا، قال: فهل يقبل الهدية؟ قلت: نعم، ويثيب عليها، قال: فكيف الحرب بينه وبين قومه؟ قلت: سجال، مرة له ومرة عليه. قال: فأسلم وأسلموا ثم قال لي: والله! لإن كنت صدقتني لقد مات في هذه الليلة، قلت: ما تقول؟ قال: والله! لئن كنت صدقتني لقد صدقتك، قال: فمكث أياما فإذا راكب قد أناخ يسأل عن عمرو بن العاص! فقمت إليه مفزوعا، فناولني كتابا فإذا عنوانه: من أبي بكر خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمرو بن العاص، فأخذت الكتاب ودخلت البيت ففككته فإذا به:
بسم الله الرحمن الرحيم
من أبي بكر خليفة رسول الله إلى عمرو بن العاص
سلام عليك! أما بعد فإن الله عز وجل بعث نبيه صلى الله عليه وسلم حين شاء وأحياه ما شاء ثم توفاه حين شاء وقد قال في كتابه الصادق {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ} وإن المسلمين قلدوني أمر هذه الأمة من غير إرادة مني ولا محبة، فأسأل الله العون والتوفيق! فإذا أتاك كتابي فلا تحلن عقالا عقله رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تعقلن عقالا حله رسول الله صلى الله عليه وسلم - والسلام.
فبكيت بكاء طويلا ثم خرجت عليهم فأعلمتهم فبكوا وعزوني، فقلت: هذا الذي ولينا بعده، ما تجدونه في كتابكم؟ قال: يعمل بعمل صاحبه اليسير ثم يموت، قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم يليكم قرن الحديد فيملأ مشارق الأرض ومغاربها قسطا وعدلا، لا يأخذه في الله لومة لائم ثم ماذا؟ قال: ثم يقتل قلت يقتل؟ قال: إي والله يقتل، قلت: ومن ملأ أم من غيلة ؟ قال: بل
من غيلة، فكانت أهون علي، قلت. ثم ماذا؟ ... وانقطع من كتاب الشيخ. "كر".
35387 ۔۔۔ حضرت عمروبن العاص (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے رسول اللہ نے عمان پر والی بناکر بھیجا میں وہاں آیا تو میری طرف ان کے پادری اور راھب لوگ نکلے انھوں نے کہا : آپ کون ہیں ؟ میں عمرو بن العاص بن وائل السہمی قریش کا ایک شخص ہوں انھوں نے کہا اور آپ کو کسی نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا اللہ کے رسول اللہ نے انھوں نے کہا وہ کون ہیں ؟ میں نے کہا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہم میں سے ایک شخص جو کو ہم پہچان لیا اور ان کے نسب کو جانالیا، ہمیں اچھے اخلاق کا حکم دیا اور بری عادتوں سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں فرمایا : انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا معاملہ حوالہ کردیا اس نے مجھ سے کہا کیا ان میں کوئی نشانی ہے میں کہا جی ہاں ان کے دونوں کندھوں کے درمیان جمع ہواگوشت ہے جسے نبوت کی مہرکہاجاتا ہے ، اس نے کہا کیا وہ صدقہ کھاتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا تو کیا وہ ھدیہ قبول کرتے ہیں میں نے کہا : جی ہاں اور اس پر بدلہ دیتے ہیں اس نے کہا : تو لڑائی ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کس طرح ہے ؟ میں نے کہا : ڈول ہے۔ (سجال) کبھی ان کے لیے فائدہ مند کبھی ان کے خلاف فرمایا : تو وہ مسلمان ہوگیا اور وہ لوگ بھی اسلام لے آئے پھر اس نے مجھ سے کہا : اللہ کی قسم اگر آپ نے مجھ سے سچ کہا ہی تو اس رات ان کا وصال ہوچکا ہے میں نے کہا : کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم اگر آپ نے سچ کہا ہے تو میں نے بھی سچ کہا : فرمایا : تو تھوڑے دن گذرے تو ایک سوار نے اپنا اونٹ بٹھایا پوچھ رہا تھا عمرو بن العاصری اللہ عنہ کے بارے میں تو میں اس کی طرف گھبرائے ہوئے اٹھا اس نے مجھے ایک خط دیا ، جس کا عنوان یہ تھا رسول اللہ کے خلیفہ ابوبکر (رض) کی طرف سے عمرو بن العاص (رض) کی طرف۔ تو میں خط لیا اور گھر میں داخل ہوگیا ، میں نے اس کو کھولاتو اس میں تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ابوبکر (رض) کی طرف سے عمر بن العاص (رض) کے نام السلام علیکم امام بعد بیشک اللہ تعالیٰ نے جب چاہا اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبغوث فرمایا اور جب تک جاہا انھیں زندگی عطا فرمائی پھر جب ارادہ فرمایا تو انھیں موت دی اور تحقیق اللہ تعالیٰ اپنی سچی کتاب میں فرماچکا ہے کہ انک میت وانھم میتون اور بیشک مسلمانوں نے میری چاہت اور محبت کے بغیر ہی مجھے اس امت کی ذمہ داری سونپ دی ہے سو اب میں اللہ ہی سے مدد اور توفیق کی درخواست کرتا ہوں تو جب آپ کے پاس میرا خط پہنچ جائے تو جس اسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھا ہے اس کو ہرگز نہ کھولنا اور جس رسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھولا ہے اسے ہرگز نہ باندھنا فقط واسلام۔ سو میں بہت رویا پھر میں لوگوں کے پاس گیا اور ان کو خبردار کیا تو وہ بھی روتے اور مجھے تسلی دی۔ تو میں نے کہا کہ یہی ہے وہ شخص جو رسول اللہ کے بعد ہمارا ولی (سرپرست ) ہے اس کے بارے میں تم اپنی کتاب میں کیا پاتے ہو۔ کہنے لگا یہ بھی اپنے نرم دل دوست کے طریقہ پر عمل کرے گا پھر اسے بھی موت آئے گی میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ۔ کہنے لگا : پھر لوہے کا پہاڑاتمہارا والی بنے گا تو وہ مشرق اور مغرب کو عدل اور انصاف سے بھر دے گا اللہ کے دین کے بارے میں کسی علامت کرنے والے کی ملامت اس پر اثر انداز نہ ہوگی۔ میں عرض کیا : پھر کیا ہوگا ؟ کہنے لگا پھر قتل کردیا جائے میں نے حیرت سے پوچھا کیا : قتل کردیا جائے گا، کہنے لگاجی ہاں اللہ کی قسم قتل کیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا روبروقتل کیا جائے گا یا کہ دھوکا سے کہنے لگا کہ نہیں بلکہ دھوکا سے تو یہ صورت مجھے ہ کی لگی پھر میں نے عرض کیا کہ کیا ہوگا۔ (اس کے بعد شیخ کی کتاب میں عبارت منقطع ہے) ابن عساکر