hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35397

.

كنز العمال

35397
Kanz al-Ummal
35388- عن حبان بن بح الصدائي قال: كفر قومي فأخبرت أن النبي صلى الله عليه وسلم جهز لهم جيشا، فأتيته فقلت: إن قومي على الإسلام، قال: كذلك؟ قلت: نعم، واتبعته ليلتي إلى الصباح، فأذنت بالصلاة، فلما أصبحت أعطاني إناء فتوضأت منه، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم أصابعه في الإناء فنبع عيون، فقال: من أراد منكم أن يتوضأ فليتوضأ، فتوضأت وصليت، وأمرني عليهم وأعطاني صدقتهم، فقام رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن فلانا ظلمني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا خير في الإمارة لرجل مسلم، ثم جاء رجل يسأل صدقة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الصدقة صداع وحريق في البطن وداء، فأعطيته صحيفة إمرتي وصدقتي، فقال: ما شأنك؟ فقلت: وكيف أقبلها وقد سمعت منك ما سمعت؟ فقال: هو ما سمعت. "طب وأبو نعيم".
35388 ۔۔۔ حبان بن بح صداتی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میری قوم کافر ہوگئی تو میں نے انھیں بنایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر تیار فرمادیا ہے پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض یا کہ بیشک میری قوم اسلام پر قائم ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا واقعہ یوں ہی ہے میں نے عرض کیا جی ہاں اور میں پوری رات صبح تک آپ کے پاس رہا پھر میں نے صبح کی اذان دی پھر صبح کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک برتن دیاتو میں نے اس سے وضو کرلیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مبارک انگلیاں اس برتن میں ڈال دیں تو ان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے جو وضو کرنا ہے تو وہ وضو کرلے تو میں نے وضو کرلے نماز پڑھ لی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنی قوم پر والی مقرر فرمایا اور مجھے ہی ان کے صدقات کے وصول کی ذمہ داری عطا فرمائی پھر ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہو اور عرض کیا کہ فلاں مجھ پر ظلم زیادتی کرتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی مسلم مرد کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں پھر ایک شخص صدقہ مانگے کیلئے حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صدقہ پیٹ کا درد اور آگ اور مرض ہے تو میں نے آپ اپنی امارت اور صدقات کی صحیفے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردئیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ کو کیا ہوگا ؟ تو میں نے عرض کیا کہ میں کیسے اس عہدہ کو قبول کرسکتا ہوں حالانکہ میں آپ سے اس بارے ایسی سخت سخت وعید بن سن رہاہوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں یہ بات ایسی ہے جیسا کہ آپ نے سنا۔ (طبرانی و ابونعیم)