hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35399

.

كنز العمال

35399
Kanz al-Ummal
35390- عن غيلان بن سلمة الثقفي قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فرأينا منه عجبا، مررنا بأرض فيها أشاء متفرق فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: يا غيلان! ايت هاتين الاشاءتين، فمر إحداهما تنضم إلى صاحبتها حتى أستتر بهما فأتوضأ، فانطلقت فقمت بينهما، فقلت: إن نبي الله صلى الله عليه وسلم يأمر إحداكما أن تنضم إلى صاحبتها، قال: فمادت إحداهما ثم انقلعت تخد في الأرض حتى انضمت إلى صاحبتها، فنزل نبي الله صلى الله عليه وسلم فتوضأ خلفهما ثم ركب، وعادت تخد في الأرض إلى موضعها، قال: ثم نزلنا معه منزلا فأقبلت امرأة بابن لها كأنه الدينار فقالت: يا نبي الله! ما كان في الحي غلام أحب إلي من ابني هذا فأصابته الموتة ، فأنا أتمنى موته فادع الله له يا نبي الله! قال: فأدناه نبي الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: "بسم الله، أنا رسول الله، أخرج عدو الله - ثلاثا،" قال: "اذهبي بابنك لن تري بأسا إن شاء الله"، ثم مضينا فنزلنا منزلا فجاء رجل فقال: يا نبي الله! إنه كان لي حائط فيه عيشي وعيش عيالي ولي فيه ناضحان فاغتلما، ومنعاني أنفسهما وحائطي وما فيه، ولا يقدر أحد على الدنو منهما، فنهض النبي صلى الله عليه وسلم بأصحابه حتى أتى الحائط فقال لصاحبه: "افتح"، فقال: يا نبي الله! أمرهما أعظم من ذلك، قال: فافتح، فلما حرك الباب بالمفتاح أقبلا، لهما جلبة كخفيف الريح، فلما أفرج الباب ونظرا إلى النبي صلى الله عليه وسلم بركا ثم سجدا، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم رؤسهما ثم دفعهما إلى صاحبهما فقال: " استعملهما وأحسن علفهما"، فقال القوم يا نبي الله! تسجد لك البهائم! فما لله عندنا بك أحسن من هذا، آجرتنا من الضلالة وا ستنقذتنا من الهلكة، أفلا تأذن لنا بالسجود لك؟ فقال: كيف كنتم صانعين بأخيكم إذا مات؟ أتسجدون لقبره؟ قالوا: يا نبي الله! نتبع أمرك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن السجود ليس إلا للحي الذي لا يموت، لو كنت آمر أحدا بالسجود من هذه الأمة لأمرت المرأة بالسجود لبعلها "، قال: ثم رجعنا، فجاءت المرأة أم الغلام فقالت: يا نبي الله! والذي بعثك بالحق ما زال من غلمان الحي، وجاءت بسمن ولبن وجزر، فرد عليها السمن والجزر وأمرهم بشرب اللبن. "كر".
35390 ۔۔۔ غبلان بن سلمة الثقفی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عجیب اور دیکھے ہمارا گزر ایک ایسی سرزمین پر ہوا جس میں کھجور کے چھوٹے چھوٹے بہت سے متفرق درخت تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے غبلان ان دو درختوں کی قریب آؤ اور ان میں سے ایک کو حکم دو کہ وہ ساتھ والے دوسرے درخت سے مل جائے تامیة ان کی اور میں ہو کر وضو بناسکوں ۔ تو میں چلا گیا اور ان دونوں درختوں کی درمیان کھڑا ہوگیا پھر میں نے کہا کہ اللہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم دونوں میں سے ایک کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ والے دوسرے درخت سے مل جائے تو میں سے ایک درخت دراز ہو کر زمین کو شق کرتے ہوئے اکھڑ کر دوسرے درخت کے ساتھ مل گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے اور ان کے پیچھے وضو بنایا پھر دوبارہ سواری پر سوار ہوئے اور وہ درخت زمین کو شق کرتے ہوئی دوبارہ اپنی جگہ پر لوٹ آیا راوی فرماتے ہیں کہ پھر کچھ مسافت کے بعد ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ایک عورت دینار جیسے اپنے ایک نیچے کو لے کر آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی کہ پورے قبیلہ میں میری بچے سے زیادہ محبوب بچہ میرے نزدیک کوئی نہیں اور اب اسے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میں مجبوراً اس کے موت کی تمنا کرتی ہوں تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی شفایابی کے لیے دعا فرمائیں اے اللہ کے نبی راوی کہتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کو اپنی قریب فرمایا پھر بسم اللہ نارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خرج عود اللہ تین دفعہ پڑھ کر فرمایا اپنے بچے اب لے جاؤ انشاء اللہ آئندہ کبھی کوئی تکلیف نہ دیکھ پاؤ گی پھر آگے کو چلی اور ایک جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑاؤ ڈالاتو ایک شخص حاضر خدمت ہو اور عرض کیا اے اللہ کے نبی میرا ایک باغ تھا جس سے میرا اور میرے اہل و عیال گزار اوقات ہوتا تھا اور پس باغ میں میرے دو اونٹ بھی تھی جو اب مست ہوچکے ہیں اور نہ تو اپنی آپ پر اور نہ ہی میرے باغ پر اور جو کچھ اس میں ہی اس پر قدرت دینے ہیں اور کوئی بھی ان کے قریب جانے کی قدرت بھی نہیں رکھتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ جلدی سے اٹھ کر باغ ہر پہنچے اور باغ کے مالک سے مفریا : کہ دروازہ کھولو۔ تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ان دونوں اونٹوں کا معاملہ نہایت خطرناک سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آپ دروازہ کھولدیں تو جب مالک باغ نے چابی کے ذریعہ دروازہ کو کھولنے کے لیے ہلا یا تو وہ دونوں اونٹ ان کی طرف سامنے سے آئی اور ان کی رفتار ہلکی ہوا جیسی تھی تو جب باغ کے مالک نے دروازہ کھول کروا کردیا اور ان دونوں اونتوں کی نظر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑگئی تو وہ دونوں بیٹھ گئے پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے سروں کو پکڑ آ پھر انھیں ان کی مالک کی حوالہ کردیا اور فرمایا کہ ان سے کام لو اور ان کی چارے کا خوب خیال رکھو تو ایک جماعت نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی جانور آپ کو سجدہ کرتے تو اللہ کی جو نعمتیں آپ کی بدولت ہم پر ہیں وہ اس سے کی گنا زیادہ ہیں آپ نے ہمیں گمراہی سے بچالیا اور ہلاکت سے ہمیں چھڑالیا تو ہمیں اپنے آپ کو سجدہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم اپنے بھائی سے یہ معاملہ کیسے کروگے جب وہ فوت ہوجائے گا کیا تم اس کے قبر کو سجدہ کروگے وہ کہنے لگی اے اللہ کے نبی ہم آپ کے حکم پیروی کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک سجدہ صرف اس ذات کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ زندہ ہے اور جسے موت نہیں آئے گی اگر میں اس امت میں سے کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کر سجدہ کرے وادی کہتا ہے پھر ہم واپس لوٹے تو وہی عورت اپنے اس بچے کو لے کر خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا اب میرا وہ بچہ قبلیہ کے بچوں میں مل کر رہتا ہے اور آپ کی خدمت میں گھی اور دودھ اور گاجر پیش کئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھی اور گاجر انھیں واپس لوٹادیا اور اپنے صحابہ کرام رضی عنہم کو دودھ پینے کا حکم دیا ۔ (ابن عساکر)