35389- "مسند حذيفة بن أسيد الغفاري" عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أسيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عرضت علي أمتي البارحة أدنى هذه الشجرة أولها إلى آخرها، فقال رجل: يا رسول الله! هذا عرض عليك من خلق فكيف عرض عليك من لم يخلق؟ قال: صوروا لي في الطين حتى لأنا أعرف بالإنسان منهم من أحدكم بصاحبه. " الحسن بن سفيان، طب، ض وأبو نعيم".
35389 ۔۔۔ مسندحذیفہ بن ایسد الغفاری میں ابوطفیل سی اور وہ حذیفہ بن اسید سی روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آج کی رات اس درخت کی قریب مجھ پر میری پوری امت شروع سے لے کر آخر تک پیش کی گئی تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو امت پیدا ہوچکی اس کا پیش کیا جاناتومعقول ہی لیکن جوا بھی تک پیداہی نہیں ہوتے انھیں کسی پیش کیا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مٹی کے گارے میں میری سامنے ان سب کی تصویرین بنادی گئیں لہٰذا اب میں لوگوں میں سے ہر ایک کو اس کے ساتھی سے زیادہ اچھی طرح جانتاہوں۔ (حسن بن صفیان طبرانی ضیاء مقدسی و ابونعیم)