hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35401

.

كنز العمال

35401
Kanz al-Ummal
35392- عن قباث بن أشيم قال: شهدت بدرا مع المشركين وإني لأنظر إلى قلة أصحاب محمد في عيني وكثرة من معنا من الخيل والرجال فانهزمت فيمن انهزم، فقد رأيتني وإني لأنظر إلى المشركين في كل وجه وإني لأقول في نفسي: ما رأيت مثل هذا الأمر فر منه إلا النساء، فلما كان بعد الخندق قلت، لو قدمت المدينة فنظرت ما يقول محمد وقد وقع في قلبي الإسلام، فقدمت المدينة فسألت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: هو ذاك في ظل المسجد مع ملأ من أصحابه، فأتيته وأنا لا أعرفه من بينهم فسلمت، فقال: "يا قباث بن أشيم! أنت القائل يوم بدر: ما رأيت مثل هذا الأمر فر منه إلا النساء؟ " فقلت: أشهد أنك رسول الله وإن هذا الأمر ما خرج مني إلى أحد قط وما ترمرمت به إلا شيئا حدثت به نفسي، فلولا أنك نبي الله ما أطلعك الله عليه، هلم حتى أبايعك، فعرض علي الإسلام، فأسلمت. "الواقدي، كر".
35392 ۔۔۔ قباث بن آشیم سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے موقع ہر میں مشرکین کے ساتھ تھا اور میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلم کے اصحاب کی قلت اور اپنی جماعت کے گھوڑوں اور افراد کی کثرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا پھر ایک دم میں نے شکست کھانے والوں کے ساتھ شکست کھائی تو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مشرکین کی طرف مرلحاظ سے دیکھ رہا تھا اور میں اپنی دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ میں نے اس جیسا معاملہ پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ جس سے سوائی عورتوں کے باقی سب بھاگ گئے پھر جب جنگ خندق کے بعدک اوقت ہوا تو میں نے کہا کہ اگر میں مدینہ کیا تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمدودات کا مشاہد کروں گا فور میرے دل میں اسلام کی محبت جگہ کی کرچکی تھی پھر میں مدینہ آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ مسجد کے سایہ میں اپنے صحابہ کرام (رض) کے جماعت کے ساتھ میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس آیا اور اب تک میں ان حاضرین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتانہ تھا۔ پھر میں نے سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے قباث بن اشیم آپ ہی نے بدر کے موقع ہر کہا تھا کہ میں نے اس جیسا معاملہ پہلے کبھی نہ دیکھا جس سے سوائے عورتوں باقی سب بھاگ نکلے تو میں نے کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور میرے اس معاملہ کی کسی کو بھی کبھی خبر نہ ہوئی اور میں نے شہادت محض ایک بات کی وجہ سے دی ہے جو میں اپنے دل میں پاتا ہوں کہ اگر آپ اللہ کے نبی نہ ہوتے تو اللہ آپ کو میرے دل کے اس خیال کی اللہ اطلاع نہ دیتاہاتھ بڑھا ہے تاکہ میں آپ سے بیعت کرسکوں پس اس طرح مجھ ہر سلما پیش کیا گیا اور میں مسلمان ہوگیا۔ (الواقدی ابن عساکر)