35393- عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة عن عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح عن قتادة بن النعمان قال: خرجت ليلة من الليالي مظلمة فقلت: لو أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدت معه الصلاة وأسيته بنفسي، ففعلت، فلما دخلت المسجد برقت السماء فرآني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا قتادة؛ ما هاج عليك؟ " فقلت: أردت بأبي أنت وأمي أؤنسك، قال: "خذ هذا العرجون فتخصر به فإنك إذا خرجت أضاء لك عشرا أمامك وعشرا خلفك، ثم قال: إذا دخلت بيتك فاضرب به مثل الحجر الأخشن في أستار البيت فإن ذلك الشيطان "، فخرجت فأضاء لي ثم ضربت مثل الحجر الأخشن حتى خرج من بيتي. "كر".
35393 ۔۔۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروة نے عباس بن عبداللہ بن سعدبن ابی سرح سے اور انھوں نی قتادة بن نعمان سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک تاریک رات کو باہر نکلا پھر مجھے خیال آیا کہ کاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز میں ساتھ رہتا اور خود آپ کی اقتدلہ کرتا تو میں نے یہ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا تو جب میں مسجد میں داخل ہوا تو آسمان پر بجلی چمکی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھ لیا پھر فرمایا ای قتادة کیا جلدی ہے آپ کو تو میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ کو مانوس کرنا چاہتاہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھجور کی یہ شاخ ہاتھ میں لو اور اسے اپنے پہلو کے قریب رکھو اس لیے کہ جب آپ یہاں سی نکلو گے تو یہ دس قدم تمہارے آگے اور دس قدم تمہارے پیچھے روشنی کرے پھر فرمایا کہ جب اپنے گھر میں داخل ہوجاؤ تو گھر کے ہرون میں موجود سخت کھردرے پتھر کی صورت کو اس سے مارو اس لیے کہ درحقیقت وہ شیطان ہے تو میں وہاں سے نکلا تو اس شاخ میرے واسطے روشنی کی پھر میں نے اس شاخ کھردرے پتھر کی صورت کو مارا لہٰذا وہ میرے گھر سے نکل گیا ۔ (ٕرواہ ابن عساکر)