35402- عن واثلة بن الأسقع قال: كنت أحد العشرين حرسا في الصفة وإنه أصابنا جوع وكنت أحدث القوم سنا، فبعثني القوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أشكو له ذلك، فالتفت في بيته فقال: " هل من شيء؟ " قالوا: نعم يا نبي الله! ههنا شيء من كسر وشيء من لبن، قال: "ايتوني به"، فأتي به ففت الكسر فتا دقيقا ثم صب عليه اللبن ثم دلكه بيده حتى جعله كالزبد وأنا قائم أنظر إليه، ثم قال لي: " يا واثلة! فائتني بعشرة من أصحابك وليجلس في المحرس عشرة،" فتعجبت لذلك لقلة الثريد، فأتيت المحرس فدعوت عشرة، فأجلسهم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك الطعام، ثم أخذ برأس الثريد بيده ثم قال: "خذوا" - وفي لفظ: " كلوا - بسم الله من جوانبها واعفوا رأسها فإن البركة تأتيها من فوقها وإنها تمد"، قال: فرأيتهم يأكلون ويتخللون أصابعه حتى تضلعوا شبعا وإن الثريد ليخيل لي أنها كما هي، وقال: "اذهبوا بسم الله إلى محرسكم وابعثوا أصحابكم،فانصرفوا وقمت متعجبا لما رأيت، واقبل على العشرة وأمرهم بمثل الذي كان أمر به أصحابهم وقال لهم مثل الذي قال لهم، فأكلوا منها حتى تملؤا شبعا وحتى انتهوا وإن فيها لفضلة. " كر وابن النجار".
35402 ۔۔۔ واثلة بن الاسقع سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ صفہ کے بیس محافظین میں سے ایک میں بھی تھا اور ہمیں بھوک ستارہی تھی اور پوری جماعت میں کم عمر تھا تو مجھے ساتھیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس حالت کی شکایت کے بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا کہ کھانے کی کوئی چیز ہے انھوں نے ہاں اے اللہ کے نبی یہاں تھوڑے سی روٹی اور کچھ دودھ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے میرے پاس لے آؤ تو وہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روٹی کے ٹکڑے کو ریزہ ریزہ کردیا پھر اس پر دودھ کو انڈیل دیا پھر اس کو اپنے دست مبارک سے ملتے رہے یہاں تک کہ اسے مکھن کی طرح کردیا اور میں کھڑا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتا رہا پھر مجھ سے فرمایا اے واثلہ میرے پاس اپنے ساتھیوں میں سے دس کو لے آؤ اور باقی دس مقررہ دیکھ کی جگہ پر رہیں تو مجھے دودھ کی قلت کی وجہ سے اس پر تعجب ہواپھر میں حفاظت گاہ آیا اور دس ساتھیوں کو میں نے بلایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس کھانے پر بٹھا دیا پھر ثرید (کے برتن) کا ایک سرا اپنے ہاتھ سے پکڑا پھر فرمایا شروع کرو اور ایک روایت میں ہے کہ کھاؤ اللہ کا نام لے کر اطراف اور کناروں سے اور اس کی درمیان سے درگزر کرو اس لیے کہ برکت اس میں اس کے اوہر سے آتی ہے آور بیشک یہ کھانا بڑھتا ہے راوی کہتا ہے کہ میں دیکھا اپنے ساتھیوں کو کہ وہ کھا رہے اور اپنی انگلیوں کو چاٹ رہے ہیں یہاں تک وہ سب خوب تن کر سیر ہوگئے اور ثیر میرے خیال میں اب بھی اتنا ہی تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب اللہ کا نام لے کر اپنے حفاظت گاہوں کو جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھیجو تو وہ چلے گئے آور میں اپنی آنکھوں سے دیکھے اس معاملہ ہر حڑیت کرتے ہوتے کھڑا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے دس اصحاب کی طرف متوجہ ہوتے اور انھیں کہتے وہی فرمایا جو ان کے سابقہ ساتھیوں سے فرمایا تھا اور ان سے بھی وہی باتیں فرمائیں جو ان کے ساتھیوں سے فرمائیں تھیں سو ان سب نے بھی خوبسیر ہو کر کھایا یہاں تک سب فارغ ہوگئے اور اب بھی برتن میں کچھ ثرید بچی ہوئی تھی۔ ( ابن عساکر وابن النحار)