hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35414

.

كنز العمال

35414
Kanz al-Ummal
35405- "مسند رفاعة بن عرابة الجهني" عن أبي الحارث محمد بن الحارث بن هانئ بن مدلج بن المقداد بن زمل بن عمرو العذري حدثني أبي عن أبيه عن جده عن أبيه عن زمل بن عمرو العذرى قال: كان لبني عذرة صنم يقال له حمام، وكان سادنه رجلا يقال له طارق، فلما ظهر النبي صلى الله عليه وسلم سمعنا صوتا: يا بني هند بن حرام! ظهر الحق وأودى حمام، ودفع الشرك الإسلام؛ ففزعنا لذلك وهالنا، فمكثنا أياما ثم سمعنا صوتا وهو يقول: يا طارق، يا طارق! بعث النبي الصادق، بوحي ناطق، صدع صادع بأرض تهامة، لناصريه السلامة، ولخاذليه الندامة، هذا الوداع مني إلى يوم القيامة، فوقع الصنم لوجهه. قال زمل: فابتعت راحلة ورحلت حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم مع نفر من قومي وأنشدته شعرا قلته: إليك يا رسول الله أعملت نصها ... أكلفها حزنا وقوزا من الرمل لأنصر خير الناس نصرا مؤزرا ... وأعقد حبلا من حبالك في حبلي وأشهد أن الله لا شيء غيره ... أدين له ما أثقلت قدمي نعلي قال: فأسلمت وبايعت وأخبرناه بما سمعنا، فقال: ذلك من كلام الجن، ثم قال: يا معشر العرب! إني رسول الله إلى الأنام كافة، أدعوهم إلى عبادة الله وحده وأني رسوله وعبده، وأن تحجوا البيت، وتصوموا شهرا من اثني عشر شهرا وهو شهر رمضان، فمن أجابني فله الجنة نزلا وثوابا، ومن عصاني كانت النار منقلبا. قال: فأسلمنا وعقد لنا لواء وكتب لنا كتابا نسخته: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله لزمل بن عمرو ومن أسلم معه خاصة إني بعثته إلى قومه عامة، فمن أسلم ففي حزب الله ورسوله، ومن أبى فله أمان شهرين. شهد علي بن أبي طالب ومحمد بن مسلمة الأنصاري. "كر، وقال: غريب جدا".
35405 ۔۔۔ مسند رفاعہ بن دادا جہنی میں ابو الحارث محمد بن الحارث بن ہانی بن مدلج بن مقدابن زیل بن معروالعذری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ اپنے والد سے آور وہ زمل بن عمر عذر ی سے نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ بنوعذر وہ کا ایک بت تھا جسے حمام کہا جاتا تھا ۔ اور اس کا ج اور ایک شخص جس کو طاق کہا جاتا تھا تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ظہور ہوا تو ہم نے ایک آواز سنی کہ اے بنو ھندبن حرام حق ظاہر ہوچکا اور حمام ہلاک ہوچکا اور اسلام نے شرک کو ختم کردیاتوہم اس سے خوفزادہ اور دہشت زدہ ہوگئے پھر کچھ دن ہم نہرے تو پھر ہم نے ایک آواز سنی اور وہ کہہ دیا تھا کہ اے طارق اے طارق حق و باطل بیان کرے والی وحی کے ساتھ سچا پیغمبر مبعوث ہوچاتہامہ کی سر زمین پر حق کو کھول کر بیان کرنے والے نے حق کو واضح کردیا اس کے مدگاروں کے ئے سلامی اور اس کے مخالفین کے لیے پشیمانی بنے یہ پیغام میری طرف سے قیامت تک ہے پھر وہ بت اپنے منہ کے بل گرگیا زمل راوی کہتا ہے کہ میں نے فورا سواری لی اور نکل پڑا یہاں تک کہ اپنی قوم کے کی ایک جماعت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی خدمت میں نے چند اشعار پیش کئے ۔ الیک رسول اللہ اعملت نصھا لانصر خیرالناس نصر اموزوا واشھدان اللہ لاشی غیراکلفھا حزنا وقوزامن الرمل واعقد حبلا من حبالک فی حبلی ادین لہ ماثقلت قدمی نعلی اے اللہ کے رسول میں اونٹنی کو انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ اور اسے مشقوں میں ڈال کر تجھ تک پہنچا ہوں تاکہ لوگوں میں بہترین شخص کی مضبوط مدد کروں اور اپنا تعلق آپ کے ساتھ جو ڑدوں اور میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جب تک میرے پاؤں جوتوں میں رہے میں اسی دن عقیدہ ہر ہی رہوں گا راوی کہتا ہے کہ پھر میں اسلام لے آیا اور میں نے بیعت بھی کرلی اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان باتوں کی بھی جو ہم نے غائبانہ سنی تھی خبردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ جنات کا کلام تھا پھر فرمایا اے جماعت عرب بیشک میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا فرستارہ پیغمبر ہوں میں انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتاہوں اور اسباب کی طرف کہ میں بیشک اس کا رسول اور ہندہ ہوں اور اس بات کی طرف کہ تم بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ روزے رکھو اور وہ رمضان کا مہینہ کا مہینہ ہے تو جو میری بات مانے گا توا س کے لیے ٹھکانا اور بدلہ جنت ہے اور جو میری نافرمانی کرے گا تو جہنم اس کے لوٹنے کی جگہ ہوگی راوی کہتا کہ پھر ہم سب نے اسلام لایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ہمارے لیے ایک جھنڈ اتیار فرمایا اور ہمارے واسطے ایک نشتہ لکھوایا جس کا مضمون یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زمل بن عمرو اور ان کے ساتھ مسلمان ہونے والوں کے نام۔ بیشک میں اس کو اس کی پوری قوم کی طرف بھیجتا ہوں تو جو اسلام لے آئے گا تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں ہوگا اور جو انکار کرے گا تو اس کے لیے صرف مہینے کا اماں ہے گواہ علی بن ابی طالب اور محمد بن مسلمتہ نصاری ہیں (ابن عساکر اور انھوں نے کہا کہ غریب جدا)