35404- عن يوسف بن عبد الله بن سلام قال: إن رجلا من أهل الشام نزل بيهودي من أهل يثرب فأنزله وأكرمه، فقال الشامي: إني لا أدري ما أجازيك بما صنعت إلي إلا أني أكرمك بحديث أحدثكه فاحفظه مني: إنه خارج بأرض العرب نبي فإن أدركته فاتبعه، فإن أنت لم تفعل فليكن بينك وبينه ولث عهد قال: فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء اليهودي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنك رسول الله، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فاتبعني"، فقال اليهودي: لا أدع ديني ولكن لي ألف نخلة فلك منها مائة وسق أؤديه كل عام إليك وأنا آمن على أهل ومالي، فاكتب لي بذلك؛ فكتب له رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يوسف: فهو ذا، ما يؤخذ منه غيره حتى الساعة مائة وسق، ما يزاد عليه. "كر".
35404 ۔۔۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ایک شخص اہل شام میں یثرب والوں میں سے کسی یہودی کا مہمان بناتو اس یہودی نے اس شاہی کی مہانوازی کی اور خوب اکرام کیا تو شانی نے کہا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو اچھا سلوک آپ نے میرے ساتھ کیا ہے میں اس کا کیا بدلہ دو البتہ میں آپ کا اکرام ایک قیمتی بات سے کرتا ہوں جو ابھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں سو آپ اسے مجھ سے یاد کر لین وہ یہ کہ عرب کی سرزمین پر ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے تو اگر آپ اس کو پاؤ تو اس کی پیروی کرو اور اگر آپ سے یہ نہ ہوسکے تو آپ کے اور اس کے درمیان پھر کچھ عرصہ رہے پھر جب (علیہ السلام) نے نبوت کا اعلان فرمایا تو وہ یہودی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا کہ پھر میری اتباع کرو تویہو دی نے کہا کہ ا میں اپنا دین نہیں چھوڑ سکتا لیکن میرے پاس کچھور کے ایک ہزار درخت ہیں جس میں سے ایک سو دس میں آپ کو ہر سال اداکروں گا اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے امان بھی طلب کرتا ہوں لہٰذا آپ میرے واسطے ایک نوشتہ لکھوا دیجئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دستاویز لکھوائی۔