hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35421

.

كنز العمال

35421
Kanz al-Ummal
35412- عن أبي مريم الكندي قال: أقبل أعرابي من بهز حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو قاعد عنده حلقة من الناس فقال: ألا تعلمني شيئا تعلمه وأجهله وينفعني ولا يضرك؟ فقال الناس: مه مه! اجلس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " دعوه فإنما سأل الرجل ليعلم فأفرجوا له"، حتى جلس فقال: أي شيء كان أول من أمر نبوتك؟ قال: " أخذ الله مني الميثاق كما أخذ من النبيين ميثاقهم وتلا: {وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقاً غَلِيظاً} وبشرى المسيح عيسى ابن مريم، ورأت أم رسول في منامها أنه خرج من بين رجليها سراج أضاءت لها منه قصور الشام"، فقال الأعرابي: هاه! وأدنى رأسه منه وكان في سمعه شيء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ووراء ذلك ووراء ذلك مرتين أو ثلاثا. " طب وابن مردويه وأبو نعيم في الدلائل، كر".
35412 ۔۔۔ ابومریم کندی فرماتے ہیں کہ برکا ایک اعرابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور آپ کے اردگرد لوگوں کو ایک حلقہ تھا تو اس اعرابی نے کہا کہ آپ مجھے وہ باتیں کیوں نہیں سکھائے جو آپ کو معلوم ہیں اور مجھے معلوم نہیں اور ان کا بتانا مجھے فائدہ دینگی اور آپ کا نقصان بھی نہ ہوگا ؟ تو لوگوں نے کہا خاموش خاموش بیٹھ جاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کے چھوڑ دو اسے اس لیے کہ وہ جاننے کے لیے سوال کررہا ہے سو اس کو جگہ دو لہٰذا وہ بیٹھ گیا پھر اس نے پوچھا کہ آپ کی نبوت کی ابتداء کا پس منظر کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی ویسا ہی عہد لیا جس طرح کہ اس نے دوسرے نبیوں سے عہد لیا ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی (علیہ السلام) ابن مریم (واخذنا منھم میثاقا غلیظا) اور میں عیسیٰ ابن مریم کی بشارت ہوں اور رسول کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ اس دونوں پاؤں کے درمیان چراغ جیسی روشنی نکلی جس سے شام کے محلات روشنی ہوگئے تواعرابی نے کہا اور اپنا سر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کیا اور اس کی سماعت میں کچھ فرق تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ بائیں ہیں اور اس کے علاوہ بھی کچھ بائیں دودفعہ یاتین مرتبہ (طبرانی وابن مردویہ و ابونعیم فی الدلدئل وابن عساکر)