hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35420

.

كنز العمال

35420
Kanz al-Ummal
35411- عن أبي سفيان أن أمية بن أبي الصلت كان معه بغزاة فقال له: يا أبا سفيان! ألهني 1 عن عتبة بن ربيعة، قال: كريم الطرفين ويجتنب المظالم والمحارم وشريف مسن، قال: إني كنت أجد في كتبي نبيا يبعث من حرتنا هذه فكنت أظن أني هو، فلما دارست أهل العراق إذا هو من بني عبد مناف، فنظرت في بني عبد مناف فلم أجد أحدا يصلح لهذا الأمر غير عتبة بن ربيعة فلما أخبرتني بسنه عرفت أنه ليس به حين جاوز الأربعين ولم يوح إليه؛ قال أبو سفيان: فضرب الدهر من ضربه وأوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجت في ركب من قريش أريد اليمن في تجارة، فمررت بأمية بن أبي الصلت فقلت له كالمستهزئ به: يا أمية! قد خرج النبي صلى الله عليه وسلم الذي كنت تنتظر، قال: أما إنه حق فاتبعه، قلت: ما يمنعك من اتباعه؟ قال: ما يمنعني إلا الاستحياء من نساء ثقيف، إني كنت أحدثهم أني هو ثم يرونني تابعا، لغلام من بني عبد مناف! ثم قال أمية: وكأني بك يا أبا سفيان وإن خالفته قد ربطت كما يربط الجدي حتى يؤتى بك إليه فيحكم فيك بما يريد. "كر".
35411 ۔۔۔ ابوسفیان فرماتے ہیں کہ امیہ بن ابوصلت ایک جنگ میں ان کے ساتھ تھے تو امیہ بن الوصلت نے ان سے کہا کہ اے ابوسفیان مجھے عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کروتو میں نے کہا کہ وہ (ماں باپ ) دونوں طرف سے اچھے نوز خاندان اور نسب والا ہے مظالم اور حرام کاموں سے بچتا ہے اور اچھے اخلاق والا ہے اور بڑے عمر کا ہے امیہ کہنے لگا کہ میں اپنی کتابوں میں ایک نبی کے بارے میں پاتا تھا کہ وہ ہماری سرزمین سے مبعوث ہوگا تو میرا خیال یہی تھا کہ وہ میں ہی ہوں گا پھر جب اہل عراق سے میں نی علم سکیھا تو مجھے پتا چلا کہ وہ بنوعبدمناف سے ہوگا پھر میں نے بوعبدمناف پر نظر ڈالی تو میں نے عتبہ ربیعہ کے علاوہ اس منصب کے لائق کسی کو نہ پایا پھر اب جب آپ نے اس کے عمر کی مجھے خبردی تو مجھے پتا چلا وہ بھی اس کے مصداق نہیں اس لیے کہ ان کی عمر چالیس سے تجاوز کرچکی لیکن ابھی تک ان کے پاس وحی نہیں آتی ابو سفیان کہتے ہیں کہ پھر اس بعد کچھ عرصہ گزرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وحی کی گئی اور میں تجارة کے عرض سے یمن کا قصد کرتے ہوئے قریش کے ایک قافلہ میں نکلا تو میرا گزرامہ ابن ابوالصلت پر ہوا تو میں نے مذاق میں کہا کہ اے میہ وہ نبی جس کا جو انتظار کرتا تھا تحقیق وہ ظاہر ہوچکا ہے امیہ نے کہا کہ اگر واقعہ وہ سچا ہے تو خود اس کی پیروی کر میں نے کہا اس کی پیروی کرنے سے تجھے کیا چیز مانع ہے ؟ کہنے لگاثقیف قبیلہ کی عورتوں سے حداء مجھی منع کررہی ہے اس لیے کہ میں پہلے انھیں خوبتلا تا تھا کہ میں ہی وہی نبی ہوں پھر اب وہ مجھے بنوعبد مناف کے ایک لڑکے کا تابعدار دیکھیں گے پھر امیہ نے کہا اے سفیان میرا خیال ہے کہ اگر تو نے اس پیغمبر کی مخالفت کی تو مجھے بکری کے بچے کی طرح رسی سے باندھ اس کے سامنے پیش کیا جائے غار پھر وہ تیرے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کرے گا۔