hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35434

.

كنز العمال

35434
Kanz al-Ummal
35425- عن الحسن أن رهطا من قريش جلسوا في الحجر بعد بدر فقالوا: قبح الله العيش بعد موت آبائنا ببدر! ليتنا أصبنا رجل يقتل محمدا وجعلنا له جعلا، فقال رجل، أنا والله جريء الصدر جواد الشد جيد الحديد أقتله، فجعل له أربعة رهط كل رجل منهم أوقية من ذهب، فخرج حتى قدم المدينة فنزل على رجل من قومه مسلم، فقال له: ما جاء بك؟ قال، أسلمت فجئت، قال: فأطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم على ما في نفسه، فبعث إلى الرجل الذي نزل عليه ينظر ضيفه فيشده وثاقا ثم ابعث به إلي، قال: فجعل الرجل ينادي حين خرجوا به: هكذا تفعلون بمن تبعكم! هكذا تفعلون بمن أختار دينكم! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " اصدقني"، حتى ظن الناس أنه لو صدقه خلى عنه، فقال: ما جئت إلا لأسلم؟ قال: "كذبت"، ثم قص رسول الله صلى الله عليه وسلم قصته في قصة القوم، فقال: ما كان ذلك، فأمر به رسول الله فصلب على ذباب ؛ فإنه لأول مصلوب. "ابن جرير".
35425 ۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ جوگ بدر کے بعد دیہاتوں میں جا کے بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ جنگ بدر میں ہمارے آباء و اجداد کے قتل ہونے کے بعد ہماری زندگی بےمزہ ہوگئی ہے اے کاش کہ ہمیں کوئی ایسا آدمی ملے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردے اور ہم اس کے لیے انعام بھی مقرر کریں گے تو ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم میں بلند ہمت مضبوط بازوالا اور عمدہ تلوار باز ہوں میں اسے قتل کردوں گا تو قریش چار افراد میں سے ہر ایک فرد نے اس کے لیے چند اویہ سونا مقرر کرلیا پھر وہ نکلایہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا اور وہاں اپنے قوم کے کسی مسلمان شخص کے پاس بطور مہمان کے قیام کیا تو اس مسلمان نے اس سے پوچھا کہ تو کیوں آیا ہے ؟ کہنے لا کہ میں سلمان ہوچکا ہوں اس لیے یہاں آیا ہوں راوی کہتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے دل کے آرادے پر مطلع فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے پاس جس کے ہاں یہ شخص مہمان ٹہرا ہوا تھا پیغام بھیجا کہ اس کو اپنے نظر میں رکھو اور اس کو مضبوط باندھ لو اور پھرا سے میرے پاس بھیج دوراوی کہتا ہے کہ پھر لوگ اس کو نکال کرلے جانے لگے تو وہ زور زور سے پکارنے لگا کہ تم لوگ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایساسلوک کرتے ہو اور جو شخص تمہارا مذہب اختیار کرے تو تم اس کے ساتھ ایسابرتاؤ کرتے ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ تو میری بات کی تصدیق کریہاں تک لوگوں کو خیال ہوا کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرے گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے چھوڑدینگے تو اس نے کہا کہ میں اسلام لانے ہی کے لیے آیا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادی کہ تو چھوٹا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اپنی قوم کے ساتھی طے ہونے والا معاملہ بیان فرمایا تو اس نے آس سے انکار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صادر فرمایا کتو اس کو ذباب پہاڑ ہر سولی دی گئی اور یہ اسلام میں پہلا دمصوب (سولی دیا گیا ) شخص تھا۔ (ابن جریر)