hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35435

.

كنز العمال

35435
Kanz al-Ummal
35426- "مسند عتبة" " كانت حاضنتي من بني سعد بن بكر، فانطلقت وابن لها في بهم لنا ولم نأخذ معنا زادا، فقلت: يا أخي! اذهب فأتنا بزاد من عند أمنا، فانطلق أخي ومكثت عند البهم، فأقبل طيران أبيضان كأنهما نسران، فقال أحدهما لصاحبه أهو هو؟ قال: نعم، فأقبلا يبتدراني فأخذاني فبطحاني للقفا فشقا بطني: ثم استخرجا قلبي فشقاه فأخرجا منه علقتين سوداوين، فقال أحدهما لصاحبه: ائتني بماء ثلج، فغسلا به جوفي، ثم قال: ائتني بماء برد، فغسلا به قلبي، ثم قال: ائتني بالسكينة، فذراها في قلبي، ثم قال لصاحبه حصه - يعني خطه - واختم عليه بخاتم النبوة، فقال أحدهما لصاحبه: اجعله في كفة واجعل ألفا من أمته في كفة، فإذا أنا أنظر إلى الألف فوقي أشفق أن يخروا علي فقال: لو أن أمته وزنت به لمال بهم، ثم انطلقا وتركاني وفرقت فرقا شديدا، ثم انطلقت إلى أمي فأخبرتها بالذي لقيته، فأشفقت أن يكون قد التبس بي، فقالت: أعيذك بالله! فرحلت بعيرا لها فجعلتني على الرحل وركبت خلفي حتى بلغنا إلى أمي، فقالت: أديت أمانتي وذمتي، وحدثتها بالذي لقيت فلم يرعها ذلك، قالت: إني رأيت حين خرج مني نورا أضاءت منه قصور الشام. " حم، ع، ك وابن عساكر - عن عتبة بن عبد".
35426 ۔۔۔ مسند عتبہ میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کہ میری پرورش کرنے والی بنوسعد بن ابی بکر میں تھی تو میں اور اس کا ایک بیٹا اپنے چوپائے چرانے کے لیے نکلے اور ہم نے اپنے ساتھ زاد راہ نہ لیا تھا تو میں نے کہا اے میرے بھائی جاؤ اپنی اماں سے ہمارے لیے کچھ توشہ وز اور اہ لے آؤ تو وہ میرا بھائی چلا گیا اور میں چویایوں کے ساتھ ٹہر گیا تو گدھ کے ماننددوسفید پرندے سامنے سے آئے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ ؟ دوسرے نے کہا کہ ہاں پھر وہ دونوں آگے بڑھے اور مجھے پکڑا پھر مجھے گدی کے بل لٹا دیا اور میرے پیٹ کو چاک کیا پھر میرے دل کو نکالو پھر اس کو بھی چاک کیا اور اس سے خون کے دوسیاہ ٹکڑے نکالے پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میرے پاس نچ ٹھنڈا پانی لے کر آؤ پھر ان دونوں میں میرے پیٹ کا اندرونی حصہ دھویا پھر کہا کہ ٹھنڈا پانی کر آؤ پھر انھوں نے میرے دل کو دھویا پھر کہا کہ سکینہ لے آؤ پھر انھوں نے اسے میرے میں دل میں بکھیر دیا پھر اپنے ساتھی سے کہا کہ اسے سی لو اور اس ہر نبوت کے مہر کے ذریعہ مہرلگا وہ پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ اسے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دو اور دوسرے پلڑے میں اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ دو تو اچانک مجھے اپنے سے اوپر ایک ہزار آدمی دکھائی دیتے اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھ ہرگز نہ جائیں پھر کہا کہ اگر اس کو اپنی پوری امت کے ساتھی بھی تولوگے تو یہ ان سب سے بھی ہماری ہوگا پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے آور مجھے بہت زیادہ ڈرلگا پھر میں اپنی راضی امی کے پاس چلا گیا اور اسے اپنے اوپر گذر نے والے پورے واقعہ سے خبردار کردیا تو وہ ڈرگئی کہ کہیں بیری دماغی حالت بگڑ گئی ہے تو اس نے کہا کہ میں تجھے اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں پھر اس نے اپنا ایک اونٹ لیا اور مجھے کجاوہ ہر بیٹھا دیا اور خود میرے پیچھے پیٹھ گئی یہاں تک کہ مجھے میرے والدہ کے حوالہ کردیا اور کہا کہ میں نے اپنی ذمہ لی ہو چیز اور امانت واپس کردی اور مجھ پر گذرنے والے واقعہ سے اس کو بھی مطلع کردیا اور اس سے میری کو کوئی خوف نہ ہوا اور کہا کہ میں نے بھی خواب میں اس کے پیدائش کے وقت اپنے آپ سے ایک نور نکلتا دیکھا تھا جس سے شام محلات روشن ہوگئے۔ (مسند احمد ، ابویعلی مسندرک حاکم ابن عساکر عن عتہ بن عبد)