35428- "ابن إسحاق" حدثني يزيد بن زياد مولى بني هاشم عن محمد بن كعب القرظي قال: حدثت أن عتبة بن ربيعة وكان سيدا حليما قال ذات يوم: وهو جالس في نادي قريش ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وحده في المسجد: يا معشر قريش! ألا أقوم إلى هذا فاكلمه فأعرض عليه أمورا لعله أن يقبل بعضها فنعطيه أيها شاء ويكف عنا؟ وذلك حين أسلم حمزة بن عبد المطلب ورأوا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيدون ويكثرون، فقالوا: بلى، فقم يا أبا الوليد فكلمه، فقام عتبة حتى جلس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا ابن أخي! إنك منا حيث قد علمت من السعة في العشيرة والمكان في النسب، وإنك قد أتيت قومك بأمر عظيم فرقت به جماعتهم وسفهت به أحلامهم وعبت به آلهتهم ودينهم وكفرت من مضى من آبائهم، فاسمع مني أعرض عليك أمورا تنظر فيها لعلك أن تقبل منها بعضها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قل يا أبا الوليد أسمع"، فقال: يا ابن أخي! إن كنت إنما تريد بما جئت من هذا القول مالا جمعنا لك من أموالنا حتى تكون أكثرنا مالا، وإن كنت إنما تريد شرفا شرفناك علينا حتى لا نقطع أمرا دونك، وإن كنت تريد ملكا ملكناك علينا، وإن كان هذا الذي يأتيك رئي تراه ولا تستطيع أن ترده عن نفسك طلبنا لك الطبيب وبذلنا فيه أموالنا حتى يبرئك منه فإنه ربما غلب التابع على الرجل حتى يداوى منه، أو لعل هذا الذي يأتي به شعر جاش به صدرك، وإنكم لعمري يا بني عبد المطلب تقدرون منه على ما يقدر عليه أحد! حتى إذا سكت عنه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يستمع منه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أفرغت يا أبا الوليد"؟ قال: "فاسمع مني"، قال: افعل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بسم الله الرحمن الرحيم. حمّ~. تنزيل من الرحمن الرحيم. كتاب فصلت آياته قرآنا عربيا لقوم يعلمون". فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأها عليه، فلما سمعها عتبة أنصت له وألقى بيده خلف ظهره معتمدا عليها يستمع منه حتى انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم للسجدة فسجد فيها ثم قال: " قد سمعت يا أبا الوليد ما سمعت فأنت وذاك"! فقام عتبة إلى أصحابه فقال بعضهم لبعض: نحلف بالله لقد جاءكم أبو الوليد بغير الوجه الذي ذهب به! فلما جلس إليهم قالوا: ما وراءك يا أبا الوليد؟ فقال: ورائي أني والله قد سمعت قولا ما سمعت بمثله قط! والله ما هو بالشعر ولا بالسحر ولا الكهانة! يا معشر قريش أطيعوني واجعلوها في، خلوا بين هذا الرجل وبين ما هو فيه واعتزلوه، فوالله ليكونن لقوله الذي سمعت نبأ! فإن تصبه العرب فقد كفيتموه بغيركم، وإن يظهر على العرب فملكه ملككم وعزه عزكم وكنتم أسعد الناس به، قالوا: سحرك والله يا أبا الوليد بلسانه! فقال: هذا رأيي لكم فاصنعوا ما بدا لكم. "ق في الدلائل، كر".
35428 ۔۔۔ ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھ سے یزید بن زیاد مولی بنی ہاشم نے بیان کیا اور ان سے محمد بن کعب القرظی نے بیان کیا فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ عتبہ بن زبیعیہ نے جو کہ ایک متحمل مزاج سردار ایک دن کہا جب کہ وہ قریش کی مجلس میں بیٹھا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اے جماعت قریش کیا میں اس شخص کے پاس جاکر اس کے سامنے چند باتیں پیش نہ کردوں شاید کہ ان میں سے کسی ایک بات کو قبول کرلے اور ہم ان باتوں میں سے جس کو وہ چاہے اس کا اختیار دے دیں اور اس طرح وہ ہم سے باز آجائے گا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ حمزة بن عبدالمطلب اسلام لاچکے تھے اور قریش دیکھ رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاگردوں میں اضافہ ہورہا ہے اور زیادہ ہوتے چلے جارہے ہیں تو وہ قریش والے کہنے لگے کہ کیوں نہیں اے ابوالولید جا اور اس سے بات کر توعتبہ کھڑا ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر عرض کیا کہ اے بھتیجے جیسا کہ تجھے معلوم ہے کہ یقیناً خآندان کی وسوت اور نسب کے بلندی کے لحاظ سے تو ہم سب میں بڑھ کر ہے اور یقیناً تو نے اپنے قوم کے سامنے ایک بہت بڑا مطالبہ پیش کیا ہے جس سے تو نے ان کی اتحاد جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے اور ان کے عقلمندوں کی بیوقوفی واضح کردی ہے اور ان کے معبودوں اور مذہب کی تو نے عیوب بیان کردئیے اور ان کے گزر ہوئے باپ داروں کو تو نے کافر قرار دیا ہے تو میں میری بات سن میں تیرے سامنے چندبا میں پیش کرتا ہوں تاکہ تو ان میں غور کر شاید کے تو ان میں سے کسی ایک کو قبول کرسکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اے ابوالولید تو بول میں سن رہاہوں تو اس نے کہا کہ اے بھیجتے ! اگر تیرا مقصد اپنی ان باتوں سے مال حاصل کرنا ہے تو ہم تیرے واسطے بہت سارامال جمع کرلیتے ہیں لہٰذا تو ہم سب میں زیادہ مالدار ہوجائے گا اور اگر تیرا مقصد جاہ و شرافت ہے تو ہم تجھے اپنا بڑا بنالنگے اور کبھی تیری بزرگی ختم نہ ہوگی اور اگر تیرا مقصد سرداری یا بادشاہت ہے تو ہم تجھے اپنا سردار بنالینگے اور اگر تیرے پاس غیب کی خبریں لانے کوئی جن ہے جسے تو دیکھتا ہے اور اپنے سے دور نہیں کرسکتا تو ہم تیرے علاج کے لئیے طبیب بلالیتے ہیں اور اس بارے میں اپنے مال اموال خرچ کر ڈالیں گے اس کئے کہ کبھی کوئی جن انسان پر غالب آجاتا ہے اور پھر علاج اور دواء یہی سے بچتا ہے اور یا کہ شاید جو باتیں تو پیش کرتا ہے اشعار ہوں جو تیرے سینے میں موجزن ہوتے ہوں اور میری زندگی کی قسم اے بنو عبدالمطلب تم ایسے ایسے کاموں ہر قدرت رکھتے ہو شاید کہ کوئی اور اس پر قدرت رکھے لہٰذا جب وہ خاموش ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی باتیں سن رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابوالولید کیا تو فارغ ہوچکا ؟ پھر فرمایا کہ اب میری باتیں سن ۔ اس نے کہا کہ میں سن رہا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم حم تنزیل من الرحمن الرحیم کتاب فصلت ایاتہ قرآن عربیا لقوم یعلمون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلاوت جاری رکھی اور پوری سورت اس کو سنا دی جب عتبہ اسے سنا تو ایک دم خاموش رہا اور اپنا ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ کر اس کا سہارا لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت سنتا رہا حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیت سجدہ ہر پہنچ گئے اور پھر سجدہ فرمایا پھر فرمایا کہ اے ابوالولید ! یہ جو آپ نے سنا ہے اس کے بارے میں فیصلہ کر عتبہ کھڑا ہو کر اپنے ساتھیوں کے واپس چل گیا تو اس کے ساتھیوں میں سے بعض نے کہا کہ اللہ کی قسم ابولولید کوئی اور نئی بات لے کر آرہا ہے پھر جب وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گیا تو وہ کہنے لگے کہ اے ابوالولید تیرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے جس کے مثل کلام میں نے کبھی نہیں سنا اللہ کی قسم وہ نہ توفشعر ہے نہ جادو اور نہ ہی کہانت اے جماعت قریش اس بارے میں میری بات کو تسلیم کرو اور اس شخص کو اس کے کام کو اپنے حال ہر چھوڑ دو اور اس سے دور رہو۔ سو اللہ کی قسم اس کی جو باتیں میں نے سنی ہیں اس کی یقیناً ایک حقیقت ہے سو اگر عرب نے اسے تکلیف دی تو اس کا کام تمہارے بغیر بھی پورا ہوگا اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی سرداری تمہاری سرداری ہوگی اور اس کی عزت ہماری عزت ہوگی اور تم اس کی وجہ تمام لوگوں زیادہ نیک بخت ہوجاؤ گے کہنے لگے اے ابولید اللہ کی قسم اس نے اپنی زبان سے تجھ پر جادو کردیا ہے اس نے کہا کہ یہ تو میری رائے تھے تمہارے لیے سو اب تم جو جاہو کرو۔ (بیہقی فی الدلدئل ابن عساکر)