35427- عن خليفة بن عبدة المنقري قال: سألت محمد بن عدي بن ربيعة بن سواءة بن جشم بن سعد: كيف سماك أبوك في الجاهلية محمدا؟ قال: أما إني سألت أبي عما سألتني عنه فقال: خرجت رابع أربعة من بني تميم أنا أحدهم وسفيان بن مجاشع ويزيد بن عمرو ابن ربيعة بن حرقوص بن مازن وأسامة بن مالك بن جندب بن العنبر نريد زيد بن جفنة الغساني بالشام، فلما وردنا الشام نزلنا على غدير عليه شجرات وقربه قائم لديراني فقلنا: لو اغتسلنا من هذا الماء وادهنا ولبسنا ثيابنا ثم أتينا صاحبنا فأشرف علينا الديراني فقال: إن هذه للغة قوم ما هي بلغة أهل هذا البلد، فقلنا: نعم نحن قوم من مضر، قال: من أي المضائر؟ قلنا؟ من خندف، فقال: أما إنه سيبعث فيكم وشيكا نبي فسارعوا إليه وخذوا بحظكم منه ترشدوا فإنه خاتم النبيين؟ فقلنا: ما اسمه؟ قال محمد؛ فلما انصرفنا من عند ابن جفنة ولد لكل واحد منا غلام فسماه محمدا لذلك. "ق والبارودي وابن منده وابن السكن وابن شاهين، طس وأبو نعيم، كر"1.
35427 ۔۔۔ خلیفہ بن عبدالمنقری فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن عدی بن ربعیہ بسولئة بن حشم بن سعد سے دریافت کیا کہ آپ کے والد نے جا بلیت میں آپ کا نام محمد کیسے رکھ دیا فرماتے ہیں کہ میں نے ہی اپنے والد سے یہی سوال کیا تھا تو انھوں نے فرمایا کہ بنوتمیم میں سے چار افراد جن میں سے ایک میں تھا اور سفیان ابن مجاشع اور یزید بن عمر وبن ربیعہ بن حقوص بن مازن اور اسامہ بن مالک بن جندب بن غبر تھے ہم چار دن شام زید بن خفہ غسانی سے ملنے کے لیے نکلے تو جب ہم شام پہنچے تو ہم نے ایک کنویں ہر پڑاؤ ڈالا جس کے اردگرد بہت سے درخت تھے اور اس کے قریب ہی راہبوں کے علاقے کا ایک شخص بھی کھڑا تھا۔ تو ہم نے آپس میں کہا کہ اگر ہم اس پانی میں غسل کرکے تیل لگا کر اپنے کپڑے پہن لیں اور پھر مطلوبہ شخصیت سے ملیں تو اچھا ہوگا توراہبوں کے علاقے کا وہ شخص ہماری طرف متوجہ ہو کر بولا کہ یہ زبان اس علاقے والوں کی زبان تو نہیں ہم نے کہا کہ ہاں ہم مضر قوم کے ہیں۔ کہنے لگا کون سامضر ؟ ہم نے کہا مضر خندف تو اس نے کہا کہ عنقریب جلد ہی تم میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے شوجلد کرو اور اس سے اپنا حصہ ہدایت لوتا کہ تم رشدہ ہدایت پالو اس لیے کہ وہ خآتم النبیین ہے ہم نے کہا کہ اس کا نام کیا ہے ؟ کہنے لگا کہ محمد پھر جب ہم ابن حفنہ کے پاس سے ہو کر واپس لوٹے تو ہم سے ہر ایک کے ہاں ایک لڑکا ہوا اور ہر ایک نے آس کا نام محمد اسی وجہ سے رکھا (بیہقی والبار وادی وابن مندہء وابن اسکن وابن شاہین و طبرانی فی الدوسط وابو نعیم وابن عساکر)