hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35439

.

كنز العمال

35439
Kanz al-Ummal
35430- "مسند أبي بن كعب" إن أبا هريرة كان جريئا على أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أشياء لا يسأله عنها غيره، فقال: يا رسول الله! ما أقول ما رأيت من أمر النبوة؟ فاستوى جالسا وقال: "لقد سألت أبا هريرة! إني لفي صحراء أمشي ابن عشر حجج وأشهر إذا أنا برجلين فوق رأسي يقول أحدهما لصاحبه: أهو هو؟ قال: نعم، فأخذاني فصلقاني 1 على ظهري بحلاوة القفا ثم شقا بطني، فكان أحدهما يختلف بالماء في طست من ذهب والآخر يغسل جوفي، فقال أحدهما لصاحبه: افلق صدره، فإذا صدري فيما أرى ملفوفا لا أجد له وجعا، ثم قال: اشقق قلبه، فشق قلبي، فقال: أخرج الغل والحسد منه، فأخرج شبه العلقة فنبذ به، ثم قال: أدخل الرأفة والرحمة قلبه، فأدخل شيئا كهيئة الفضة، ثم أخرج ذرورا كان معه فذره عليه ثم نقر إبهامي ثم قال: اغد، فرجعت بما لم أغد به من رحمتي للصغير ورقتي على الكبير. " عم، حب، ك والمحامل وأبو نعيم في الدلائل وابن عساكر، ض".
35430 ۔۔۔ مسند ابی بن کعب میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے چیزوں کے بارے میں بھی پوچھنے کی جرات کرتے تھے کہ جس کے پوچھنے کی جرات کوئی اور نہ کرتا تھا تو ابوہریرہ (رض) پوچھا کہ اے اللہ کے رسول میں کیا کہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت کی کونسی علامت و نشانی دیکھی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے ابوہریرة تو نے سوال کر ہی لیا ہے۔ بیشک میں دس مہینے اور دس سال کا تھا کہ میں ایک جنگل میں چل رہا تھا اچانک میرے سر کے اوپر دو آدمی تھے ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا یہی ہے وہ ؟ دوسرے نے کہا کہ ہاں پھر انھوں نے مجھے پکڑا اور پشت کی جانب پر لٹادیا اور پھر میرا پیٹ چاک کیا تو گویا کہ ایک سونے کے برتن میں پانی لا رہا تھا اور دوسرا میرے پیٹ کا اندرونی حصہ دھورہا تھا پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس کا سیلہ کھولو تو ایک دم میرا سینہ میرے خیال میں لپیٹ دیا گیا تھا اور مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی پھر فرمایا کہ اس کے دل کو چاک کرو تو اس نے میرا دل چاک کیا پھر فرمایا کہ اس سے خیانت اور حسدکو نکال دو تو اس نے جمے ہوئے خی کی طرح ایک چیز نکالکر پھینک دی پھر فرمایا کہ اب اس کے دل میں نرمی اور مہربانی ڈال دو تو اس نے چاندی کی طرح کوئی چیز اندر ڈال دی پھر ایک دواء نکالی اور اسے اس سے ہر چھڑک دیا پھر میرے انگوٹھے کو دبایا پھر کہ ہوجا تو میرے اندر بچوں کے لیے مہربانی اور بڑوں کے لیے نرمی کا وصفہ آگیا (زیارات مسند احمد وابن حبان ومستردرک حاکم والمحامی و ابونعیم فی الدئل وابن عساکر وضبا مقدسی)