35431- "أيضاْ" قال: لم يرم بنجم منذ رفع عيسى حتى تنبأ رسول الله صلى الله عليه وسلم، رمي بها فرأت قريش أمرا لم تكن تراه، فجعلوا يسيبون أنعامهم ويعتقون أرقاءهم يظنون أنه الفناء، ثم فعلت ثقيف مثل ذلك، فبلغ عبد ياليل فقال: لا تعجلوا وانظروا فإن تكن نجوما تعرف فهو عند فناء الناس، وإن كانت نجوما لا تعرف فهو عند أمر قد حدث، فنظروا فإذا هي لا تعرف، فأخبروه فقال: هذا عند ظهور نبي، فما مكثوا إلا يسيرا حتى قدم الطائف أبو سفيان بن حرب فقال: ظهر محمد بن عبد الله يدعي أنه نبي مرسل، قال عبد ياليل: فعند ذلك رمي بها. "أبو نعيم في الدلائل".
35431 ۔۔۔ انھوں نے فرمایا : کہ کوئی ستارہ نہیں مارا گیا تھا جب سے حضرت (علیہ السلام) اسمان پر اٹھالئے ہیں حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت کا دعوی کیا تو ستارے ماراجانا پھر سے شروع ہوا اس بناء پر قریش نے ایک عجیب کا مشاہد ہ کیا جو اس سے پہلے انھوں نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے جانوروں کو کھلا چھوڑنا شروع کیا اور غلاموں کو آزاد کرنا شروع کیا ان کا یہ خیال بن گیا کہ بس یہانپا کی فناء کا وقت ہے قریش کے بعد ثقیف قبیلے نے بھی یہ کام شروع کیا چلتے چلتے یہ خبر عبدیالیل کو پہنچی تو اس نے کہا کہ جلدی سے کامنہلیں اور انتظار کریں دیکھیں اگر یہ ستارے (جومارے جائے ہیں) معروف و مشہور ا ستارے ہیں تو پھر یہ لوگوں اور عالم کے ختم ہونے کا وقت ہے لیکن اگر یہ معروف و مشہور گ ستارے نہیں ہیں تو پھر کوئی غیر معمولی چیز وجور میں آچکی ہے یہ اس کی وجہ سے ہے جب انھوں نے غور لے مشاہدہ کیا تو یہ ستارے معروف و مشہور ستارے نہیں تھے انھوں نے عبدیاسیل کو یہ حقیقت بتائی تو اس نے کہا کہ یہ علامات کسی نبی کے ظاہر ہونے کی ہیں اس کے بعد کوئی زیادہ عصر ہ گذرا نہیں تھا کہ ظائف میں ابوسفیان بن حرب آئے اور اس نے یہ خبر دی کہ محمد بن عبداللہ کا ظہور ہوچکا ہے آور یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ایک پرستارہ اور پیغمبر ہے تو اس پر عبد یل نے کہا کہ یہ اسی وجہ سے ستارے مارے جاناشروع ہوگیا تھا۔ (ابونعیم فی الدلائل)