35443- عن علي أن يهوديا كان يقال له جريجرة وكان له على النبي صلى الله عليه وسلم دنانير فتقاضى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له: " يا يهودي! ما عندي ما أعطيك"، قال: فإني لا أفارقك يا محمد حتى تعطيني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أجلس معك"، فجلس معه فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك الموضع الظهر والعصر والمغرب والعشاء الآخرة والغداة، وكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يهددونه ويتوعدونه، ففطن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ما الذي تصنعون به"؟ فقالوا، يا رسول الله! يهودي يحبسك! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "منعني ربي أن أظلم معاهدا ولا غيره"؛ فلما ترجل النهار قال اليهودي: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، وشطر مالي في سبيل الله، أما والله! ما فعلت الذي فعلت بك إلا لأنظر إلى نعتك في التوراة: محمد بن عبد الله، مولده بمكة، ومهاجره بطيبة، وملكه بالشام، ليس بفظ ولا غليظ، ولا سخاب في الأسواق، ولا متزي بالفحش، ولا قول الخنا. أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، هذا مالي فاحكم فيه بما أراك الله؛ وكان اليهودي كثير المال. "ك، ق في الدلائل، كر، قال ابن حجر في الأطراف: لم يتكلم عليه؛ ك وفي إسناده أبو علي محمد بن محمد الأشعث الكوفي وكذبه جماعة".
35443 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی تھا جس کا نام جریجر تھا اس کے حضور کے اوپر کچھ دینار کا قرضہ تھا تو اس نے حضور سے مطالبہ کیا حضور نے فرمایا کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے اس پر یہودی نے کہا کہ میں آپ سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گا جب تک آپ مجھے ادائیگی نہ کردیں اس پر حضور نے فرمایا : ٹھیک ہے میں آپ کے پاس بیٹھا رہوں گا پھر بیٹھے رہے اور ظہر ، عصر مغرب ، عشاء اور دوسری صبح کی نماز بھی اس کے ہاں پڑھی دوسری طرف بعض صحابہ (رض) نے فرمایا کہ ایک یہودی آپ کو حبس میں رکھے یہ کیسا ہوسکتا ہے ؟ حضور نے جواب میں فرمایا میرے رب نے مجھے اس سے روکا ہے کہ میں کسی معاہدہ (ذمی) یا کسی اور پر ظلم کروں جب دوسرا دن طلوع ہوا تو یہودی نے کہا : اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھدان محمد عبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ ایک ہی ہے اور مجھ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ) یہ بھی کہا کہ میرے حال کا آدھا اللہ کے راستے میں صدقہ ہے اللہ کی قسم میں نے یہ جو کچھ کیا محض اس لیے کیا کہ میں یہ تصدیق کرسکوں کہ آپ میں توراۃ والی صفات موجود ہیں جو کہ کچھ یوں ہیں محمد بنعبداللہ مکہ میں پیداہوں گے اور طیبہ (مدینہ ) ان کی ہجرت کی جگہ ہوگی اس کی بادشاہی شام تک جائے گی نہ بدرزبان ہوگا اور نہ سخت دل نہ بازاروں میں شور مچانے والا نہ فحش باتوں میں ملعوث ہوگا لہٰذا میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ ایک ہی ہے اور آپ کے ان کے رسول ہیں ، یہ میرا حال ہے اس میں آپ اپنی مرضی کا فیصلہ کرلیجئے (راوی کہتا ہے) یہ یہودی بہت مالدار بھی تھا۔ (بیہقی فی الدلائل ابن عساکر علامہ ابن حجر نے اطراف میں فرمایا ہے کہ اس حدیث پر کوئی کلام نہیں اور اس کی سند میں ابوعلی محمد بن محمد الاشعت الکوفی ہے جس کی ایک جماعت نے تکذیب کی ہے)