35444- "مسند أنس" أبو محمد بن أحمد المخلدي ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق السراج حدثنا قتيبة بن سعيد ثنا أبو هاشم كثير بن عبد الله الأيلى سمعت أنس بن مالك يحدث معاوية بن قرة قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن ثمان سنين وكان أبي توفي وتزوجت أمي بأبي طلحة، وكان أبو طلحة إذ ذاك لم يكن له شيء وربما بتنا الليلة والليلتين بغير عشاء، فوجدنا كفا من شعير فطحنته وعجنته وخبزت منه قرصين، وطلبت شيئا من اللبن من جارة لها أنصارية فضبت على القرصين وقالت: اذهب فادع بأبي طلحة تأكلان جميعا، فخرجت أشتد فرحا لما أريد أن آكل فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا وأصحابه! فدنوت من النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: إن أمي تدعوك، فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقال لأصحابه: "قوموا"، فجاء حتى انتهى إلى قريب من منزلنا فقال لأبي طلحة: "هل صنعتم شيئا دعوتمونا إليه"؟ فقال أبو طلحة: والذي بعثك بالحق نبيا! ما دخل فمي منذ غداة أمس شيء، قال: "فمن أي شيء دعتنا أم سليم"! ادخل فانظر فدخل أبو طلحة فقال: يا أم سليم لأي شيء دعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: ما فعلت غير أني اتخذت قرصين من شعير وطلبت من جارتي الأنصارية لبنا فصببت على القرصين وقلت لأبني أنس، اذهب فادع أبا طلحة تأكلان جميعا، فخرج أبو طلحة فقال للنبي صلى الله عليه وسلم الذي قالت أم سليم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ادخل بنا يا أنس"! فدخل النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة وأنا معهم فقال: " يا أم سليم! أتيني بقرصك "، فأتته به، فوضعه بين يديه، وبسط النبي صلى الله عليه وسلم يديه على القرص وقرن بين أصابعه فقال: " يا أبا طلحة! اذهب فادعو من أصحابنا عشرة"، فدعا بعشرة، فقال لهم: " اقعدوا وسموا الله وكلوا من بين أصابعي"، فقعدوا فقالوا: بسم الله، وأكلوا من بين أصابعه حتى شبعوا، فقالوا: شبعنا، فقال: "انصرفوا" وقال لأبي طلحة: أدع بعشرة أخرى، فما زال يذهب عشرة ويجيء عشرة حتى أكل منه ثلاثة وسبعون رجلا ثم قال: " يا أبا طلحة ويا أنس! تعالوا"، فأكل النبي صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة وأنا معهم حتى شبعنا، ثم إنه رفع القرصين فقال: " يا أم سليم! كلي وأطعمي من شئت "، فلما أبصرت أم سليم ذلك أخذتها الرعدة - يعني من التعجب "أورده الحافظ ابن حجر في عشارياته وقال: هذا حديث غريب من هذا وهو مشهور عن أنس، وفي هذا الإسناد مقال من جهة كثير بن عبد الله وقد تكلموا فيه ولكنه لم ينفرد به، وقد تابعه إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس، أخرجه خ".
35444 ۔۔۔ ابومحمد حسن بن احمدمخلدی فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوالعباس محمد ابن اسحاق السراج نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کیا قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کیا ابوہاشم کثیر بن عبداللہ اریلی سے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے سنا کہ معاویہ بن قرة کے سامنے یہ حدیث سنا رہے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے جب کہ میں آٹھ سال کا بچہ تھا میرا والد فوت ہوگیا تھا اور میری والدہ نے ابوطلحہ کے ساتھ نکاح کیا تھا جب کہ ابوطلحہ اس وقت میں بہت فقر تھے بسا اوقات ہم ایک دو راتیں ایسا بھی گذارا کرتے تھے کہ رات کا کھانا نہیں ملتا تھا ایک مرتبہ ہمیں ایک مٹھی جو ملی میں نے اسے پیس کر آٹا بناکر دوروٹیاں بنائیں اور والدہ کی ایک انصاری پڑوسی سے کچھ دودھ مانگا جس کو میں نے ان روٹیوں کے اوپر ڈال دیا والدہ نے کہا جاؤ ابوطلحہ کو بھی بلاؤ اور دونوں مل کر کھاؤ میں نکلا اور خوشی سے دوڑ رہا تھا کہ اب ہم مل کر یہ چیز کھائیں گے اچانک میری ملاقات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوئی جو چند صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے میں حضور کے قریب گیا اور کہا کہ میری والد آپ کو بلارہی ہے حضور اٹھے اور صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے میں حضور کے قریب گیا اور کہا کہ میری والدہ آپ کو بلارہی ہے حضور اٹھے اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا اٹھوچلتے چلتے ہمارے گھر کے قریب پہنچ گئے توابوطلحہ سے کہنے لگے کہ کیا آپ نے کوئی کھانا تیار کیا ہے جو ہمیں آپ نے بلایا ہے ابوطلحہ نے جواب میں عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق رسول بناکر بھیجا ہے کہ میری منہ میں کل سے کوئی نوالہ نہیں اترا ہے اس پر حور نے فرمایا کہ پھر ام سلیم نے کیوں ہمیں بلایا ہے جاکر دیکھ لو اور جائزہ لوحضرت ابوطلحہ اندر گئے اور پوچھا : ام سلیم آپ نے حضور کو کس مقصد کے لیے بلایا ہے ؟ ام سلیم نے جواب دیا کچھ اور یہیں صرف اتنی بات بھی کہ میں نے جو کی دوروٹیاں بنائی تھیں اور اپنی انصار ی پڑوسن سے کچھ دودھ مانگ کر اس پر ڈال دیا تھا میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جا ابوطلحہ کو بلالاؤ اور دونوں مل کر کھاؤ ۔ حضرت ابوطلحہ نکلے اور حضور کو یہ سارا ماجرا سنایا ۔ حضور نے فرمایا انس ہمیں اندر لے جاؤ تو حضور اندر گئے میں اور ابوطلحہ بھی اندر گئے حضور نے فرمایا ام سلیم اپنی روٹیاں لدؤ وہ لائی اور حضور کے سامنے رکھ دیں حضور نے اپنے ہاتھ مبارک روٹیوں کے اوپر پھیلا کر رکھ دی اور انگلیاں ملائی پھر فرمایا : ابوطلحہ جا اور دس صحابہ کو بلاؤ انھوں نے دس صحابہ کو بلایا حضور نے فرمایا : بیٹھ جاؤ اور اللہ کا نام لے کر میری انگلیوں کے درمیان سے کھانا شروع کرو وہ بیٹھ گئے اور اللہ کا نام لے کر حضور کی انگلیوں کے درمیان سے کھانا شروع کیا اور سیر ہو کر کہا کہ بس ہم سیر ہوگئے حضور نے فرمایا اب تم جاؤ پھر ابوطلحہ سے فرمایا دس اور کو بلالدخ اس طرح وہ ہر بار میں دس دس کو بلاتا رہا حتی کہ تہتر 73 آدمیوں نے سیر ہو کر کھایا پھر فرمایا اے ابوطلحہ اور انس تم آجاؤ تو حضور نے اور ابوطلحہ اور میں نے مل کر کھایا ہم بھی سیر ہوگئے پھر حضور نے وہ اور روٹیاں اٹھوائیں اور فرمایا ام سلیم خود بھی کھاؤ اور جسے مرضی ہو اس کو بھی کھلاؤ جب ام سلیم نے یہ صورت حال دیکھی تو اس پر ایک رعب طاری ہوا یعنی تعجب کی وجہ سے ۔ (حافظ ابن حجر نے عشاریات میں اس حدیث کی روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث حضرت انس کے خالہ سے مشہور ہے لیکن غریب ہے او کثیر بن عبداللہ راوی کی وجہ سے اس سند میں کمزوری ہے لیکن دوسری طرف یہ راوی (کثیر ) اس میں اکیلا نہیں ہے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ بیٹھی اس کا ساتھ دیا ہے امام بخاری نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے)