hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35455

.

كنز العمال

35455
Kanz al-Ummal
35446- "مسند أبي" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى جذع إذ كان المسجد عريشا وكان يخطب إلى ذلك الجذع، فقال رجل من أصحابه: هل لك أن تجعل لك شيئا تقوم عليه يوم الجمعة حتى يراك الناس وتسمعهم خطبتك؟ قال: "نعم"، فصنع له ثلاث درجات، فهي التي على المنبر، فلما وضع المنبر وضعوه في الموضع الذي هو فيه، فلما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقوم على المنبر مر إلى الجذع الذي كان يخطب إليه، فلما جاوز الجذع خار حتى تصدع وانشق، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم لما سمع صوت الجذع فمسحه بيده حتى سكن، ثم رجع إلى المنبر، فكان إذا صلى صلى إليه. "الشافعي، حم، والدارمي، هـ، ع، ص، زاد عبد الله بن أحمد: فقاله النبي صلى الله عليه وسلم: إنك إن تشأ - غرستك في الجنة فيأكل منك الصالحون، وإن تشأ - أعيدك كما كنت رطبا فاختار الآخرة على الدنيا".
35446 ۔۔۔ (مسندابی ) جب مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھجور کی ٹہنیوں کی بنی ہوئی تھی اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک تنہ کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے اور خطبہ بھی دیتے تھے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک شخص نے کہا کیا ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز وبنا دیں جس پر آپ کھڑے ہو کر جمعہ کے دن خطبہ دیاکریں اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں آپ ان کو اپنا خطبہ سنائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں فرمایا تومنبر کے تین درجات بنادئیے جب منبر پر تیار ہوگیا تو اس جگہ رکھ دیا گیا جہاں منبر تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو اس تنہ کے پاس سے گذر جس پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آگے پڑھ گئے تو تنہ نے چیخ ماری اور پھٹ گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اس کی آواز سنی تو منبر سے اتر کر اپنا دست مبارک اس پر پھیرا یہاں تک اس کو سکون آگیا پھر واپس منبر پر آگئے جب آپ نماز پڑھتے تو اس کے قریب جاکر نماز پڑھتے ۔ (الشافعی داری ابن ماجہ ، بختیلی بسعید بن منصور عبداللہ بن احمد بن اور اضافہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اگر توچا ہے تو تجھے جنت میں لادیا جائے تاکہ صالحین تیرا پھل کھائے اگر چاہو تو تمہیں دوبارہ تازہ درخت بنادیا جائے تو تنہ نے آخرت نے درخت بننے کو ترجیح دی۔