hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35461

.

كنز العمال

35461
Kanz al-Ummal
35452- "مسند شداد بن أوس" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صليت بأصحابي صلاة العتمة بمكة معتما، فأتاني جبريل بدابة بيضاء فوق الحمار ودون البغل، فاستصعبت علي فأدارها بأذنها حتى حملني عليها، فانطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها حتى انتهينا إلى أرض ذات نخل، قال: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، ثم ركبنا فقال لي: أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بيثرب صليت بطيبة؛ ثم انطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها حتى بلغنا أرضا بيضاء، قال لي: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، ثم ركبنا، قال: أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بمدين صليت عند شجرة موسى؛ ثم انطلقت تهوي بنا تضع حافرها حيث أدرك طرفها ثم ارتفعنا، فقال: انزل، فنزلت، فقال: صل، فصليت، ثم ركبنا فقال؟ أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت ببيت لحم حيث ولد المسيح ابن مريم؛ ثم انطلق بي حتى دخلنا المدينة من بابها اليماني، فأتى قبلة المسجد فربط دابته، ودخلنا المسجد من باب فيه تميل الشمس والقمر، فصليت في المسجد حيث شاء الله، ثم أتيت بإناءين: في أحدهما لبن، وفي الآخر عسل، أرسل إلي بهما جميعا فعدلت بينهما، ثم هداني الله فاخترت اللبن، فشربت حتى قرعت به جبيني، وبين يدي شيخ متكيء فقال: أخذ صاحبك بالفطرة؛ ثم انطلق بي حتى أتيت الوادي الذي بالمدينة فإذا جهنم تنكشف عن مثل الزرابي! ثم مررنا بعير لقريش بمكان كذا وكذا قد أضلوا بعيرا لهم فسلمت عليهم، فقال بعضهم لبعض: هذا صوت محمد؟ ثم أتيت أصحابي قبل الصبح بمكة، فأتاني أبو بكر فقال: يا رسول الله! أين كنت الليلة؟ فقد التمستك في مكانك فلم أجدك، فقلت: أعلمت أني أتيت بيت المقدس الليلة؟ فقال: يا رسول الله! إنه مسيرة شهر فصفه لي، ففتح لي صراط كأني أنظر إليه، لا يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم عنه. " البزار وابن أبي حاتم، طب وابن مردويه، ق في الدلائل؛ وصححه".
35452 ۔۔۔ مسند شداد بن اوس میں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے مکہ میں صحابہ کرام (رض) کو عشاء کی نماز پڑھائی عشاء کے وقت میں اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لے کر آیا توگدھا سے ذرا بڑھا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا تھا اس پر سوار ہونا میرے دشوار تھا جبر نے کان سے پکڑ اس کو گمایا اور مجھے اس پر سوار کروا دیا وہ ہمیں لے کر چل پڑا منتہا نظر پر قدم رکھتا تھا یہاں تک ہم ایک نخلستان والی سرزمین پر پہنچے تو کہا اتریں میں اتر گیا کہا نماز پڑھیں میں نے نماز پڑھی پھر ہم سوار ہوگئے پوچھا معلوم ہے آپ نے کس جگہ نماز پڑی میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے تو بتایا آپ نے مدین میں شجرة موسیٰ کی جگہ پر نماز پڑھی ہے پھر ہمیں لے کر چل پڑا منہائے نظر پر قدم رکھتا رہا پھر بلند ہونا کہا اتریں میں اتر گیا وہاں نماز پڑھیں میں نے نماز پڑھی پوچھا معلوم بھی ہے کہا بن نماز پڑھی میں نے کہا اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے بتایا گیا کہ آپ نے بہت اللحم میں نماز جو عیسیٰ بن مریم کی جائے پیدائش ہے پھر مجھے لے کر روانہ ہوایہاں تک ہم شہر میں بابہ کمانی سے داخل ہوئے مسجد کے قبلہ کی جانب آیا اور جانور کو باندھ دیا اور ہم مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوئے جس پرچاند و سورج سیدھا نہیں گذرتا بلکہ مائل ہو کر گذرتا ہے میں نے مسجد میں نماز ڑھی جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شہد دونوں میرے پاس بھیجا گیا میں نے دونوں میں مواز کیا اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی میں نے دودھ کو اختیار کیا اس میں سے پیا اور خوب سیر ہو کر بیا میرے سامنے ایک شیخ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے انھوں نیکہا آپ کے ساتھی نے نصراب کو اختیار کیا ہے پھر مجھے لے چلا یہاں تک ہم شہر کے ایک وادی میں پہنچے وہاں جہنم منکشف ہوئی جس کی آگ زرابی کی طرح سرخ تھی پھر صہما را گذر قریش کے ایک قافلہ پر ہوا جو فلاں فلاں مقام پر تھا وہ اپنے ایک اونٹ کھوچکا تھا میں نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز ہے پھر میں صبح ہونے سے پہلے اپنے صحابہ کے پاس مکہ پہنچ گیا ابوبکر (رض) میرے پاس آیا اور پوچھا یارسول اللہ آپ رات کہاں تھے میں آپ کو اپنی جگہ تلاش کیا آپ نہ مل سکے میں نے کہا میں آپ کو بتاتاہوں میں بیت المقدس گیا تھا عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ تو ایک ماہ کی مساوت پر ہے آپ اس کے اور صاف مجھے بتادیں تو میرے لیے راستہ کھول دیا گیا گویا کہ میں بیت المقدس کو دیکھ رہاہوں مجھ سے اس بارے میں جو سوالات ہونے گئے میں دیکھ کر دیکھ بتاتا گیا۔ (البز ارابن بی حاتم طبانی ابن مردویہ بیہقی فی الدلائل وصحیہ)