35453- المعافى بن زكريا الجريري حدثنا محمد بن حمدان الصيدلاني حدثنا محمد بن مسلمة الواسطي حدثنا يزيد بن هارون أنبأنا خالد الحذاء عن أبي قلابة عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله عز وجل فضل المرسلين على المقربين لما بلغت السماء السابعة، لقيني ملك من نور على سرير فسلمت عليه فرد علي السلام، فأوحى الله إليه: سلم عليك صفيي ونبيي ولم تقم إليه وعزتي وجلالتي لتقومن فلا تقعدن إلى يوم القيامة. " خط والديلمي؛ قال في المغني: محمد بن مسلمة الواسطي عن يزيد ضعفه اللالكائي وضعفه ابن الجوزي في الموضوعات".
35453 ۔۔۔ معافی بن ز کرنا جریر سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کیا محمد بن حمد ان حمد ان صبدلانی نے کہ ہم سے حدیث بیان کیا محمد بن مسلم واسطی نے انھوں نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ہے یزید بن ہارون نے انھوں نے کہا کہ ہمیں خبردی ہے خالد خداء نے ابی قلد بہ سے انھوں نے روایت کی ہے ابن عباس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کو فضلیت دی ہے مقرب فرشتوں پر جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو ایک فرشتہ ملا نور کے سر برپر میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجا کہ تم کو سلام کیا ہے میرے منتخب نبی نے تم ان سے ملنے کے لیے کھڑے ہی نہیں ہوئے میرے عزت و جلال کی قسم تم اب کھڑے ہی رہو گے قیامت تک نہیں بیٹھ سکتے ۔ (خطیب دیلمی مفنی میں روایت ہے محمد بن سلمہ داسفی نے یزدی سے روایت کی ہی ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں ضعیف قراردیا ہے )