35454- عن ابن عباس قال: ليلة أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم دخل الجنة فسمع في جانبها خشفا فقال: يا جبريل! "من هذا "؟ فقال: هذا بلال المؤذن، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم الناس وقال: " قد أفلح بلال رأيت له كذا وكذا "؛ قال: ولقيه موسى فرحب به فقال: مرحبا بالنبي الأمي! قال: وهو رجل آدم طوال سبط شعره مع أذنيه أو فوقهما، فقال: " يا جبريل! من هذا "؟ فقال: هذا موسى، ثم مضي فلقيه رجل فرحب به فقال " من هذا يا جبريل "؟ فقال: هذا عيسى، ثم مضى فلقيه شيخ جليل مهيب فرحب به وسلم عليه - وكلهم يسلم عليه - فقال: يا جبريل! من هذا؟ قال: هذا أبوك إبراهيم؛ فنظر في النار فإذا قوم يأكلون الجيف! قال: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس، ورأى رجلا أزرق جعدا شعثا إذا رأيته، قال: من هذا يا جبريل؟ قال: هذا عاقر الناقة، فلما أن دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد الأقصى قام يصلي، ثم التفت فإذا النبيون أجمعون يصلون معه، فلما انصرف جيء بقدحين: أحدهما عن اليمين والآخر عن الشمال، في أحدهما لبن وفي الآخر عسل، فأخذ اللبن فشربه، فقال الذي معه القدح: أصبت الفطرة. " ق في البعث؛ وفيه قابوس بن أبي ظبيان ضعيف".
35454 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ معراج کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت میں داخل ہوئے تو جنت کی ایک جانب کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی تو پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہے بتایا بلال موذن ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کے پاس واپس آئے تو فرمایا کہ بلال کامیاب ہوگیا میں نے ان کا مقام اس طرح دیکھا ہے بتایا موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا مرحبابالنبی الامی وہ ایک گندمی رنگ کا انسان ہے قد طویل ہے بال کانوں تک یا اس سے نیچے تک میں پوچگا اے جبرائیل یہ کون ہیں بتایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) میں بھر آکے چلے ایک اور شخص سے ملاقات ہوئی پوچھا اے جبرائیل یہ کون ہیں توجبرائیل (علیہا السلام) نے بتایا عیسیٰ (علیہ السلام) میں پھر آگے چلے تو ایک بارعب شیخ سے ملاقات ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہ سلام کیا ہر ایک ان کو سلام کرتے ہیں پوچگا اے جبرائیل یہ کون ہیں بتایا یہ آپ کے والد ابراہیم ہیں آگ کی طرف دیکھا تو اس میں ایک قومردار کھانے میں مشغول تھے پوچھا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں بتایا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کے گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت کرتے تھے ) ایک زردرنگ کا شخص دیکھاجنکے گھنگریالے بال تھے اور پراگندہ حال جب اس کو دیکھا پوچھا یہ کون ہیں بتایا یہ ناقہ صالح کی پاؤں کانٹے والا ہے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد اقصی میں داخل ہوتے تو نماز پڑھی اس کے بعد جب فارغ ہوئے تو دیکھا کہ تمام انبیاء آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو دو پیالہ لائے گئے ایک دائیں طرف دوسرا بائیں طرف ایک میں دودھ تھا دوسرے میں شراب آپ علیہ السلام نے دودھ کا برتن لیا۔ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا بتایا کہ آپ نے فطرات کے تقاضہ پر عمل کیا ہے (بیہقی نے بعث میں نقل کیا اس میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہے)