hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35465

.

كنز العمال

35465
Kanz al-Ummal
35456- "مسند أنسْ" " بينا أنا جالس إذ جاء جبريل فوكز بين كتفي فقمت إلى شجرة فيها مثل كوكرى الطائر، فقعد في أحدهما وقعدت في الآخر فنمت فارتفعت حتى سدت الخافقين وأنا أقلب بصري ولو شئت أن أمس السماء لمسست، فالتفت إلى جبريل، فإذا هو كأنه حلس لاطيء، فعرفت فضل علمه بالله علي، وفتح لي باب من السماء ورأيت النور الأعظم، ولط دوني الحجاب رفرفه الدر والياقوت، ثم أوحى الله إلي ما شاء أن يوحي. " ابن سعد، بز وابن خزيمة، طس وأبو الشيخ في العظمة، هب، عن أنس".
35456 ۔۔۔ مسندانس (رض) میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آیا اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان جھٹکا دیا میں ایک درخت پر چڑھ گیا جس پرندوں کے گھونسلہ نما جگہ بنی ہوئی تھی ایک میں وہ خود بیٹھ گئے اور دوسری میں میں بیٹھ گیا۔ میں سوگیا۔ بلند ہوا۔ یہاں تک آسمان کے دونوں کنارے بھر دیا میں اپنی آنکھیں الٹ پلٹ کررہا تھا اگر میں چاہتا تو آسمان کو ہاتھ لگا لیتا میں جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوا تو وہ گویا کہ ٹاٹ ہے جس کو میں روند دوں مجھے معلوم ہوگیا کہ جبرائیل کو مجھ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے میرے لیے آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا میں نے اس میں نور اعظم کو دیکھا میرے سامنے پردہ ڈالا گیا جو موتی اور یاقوت کا بنا ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔ (ابن سعد بزار ابن خزمیہ طبرانی فی الدوسط ابوالشخ فی الفطحہ بیقی بروایت انس (رض))