hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35490

.

كنز العمال

35490
Kanz al-Ummal
35481- "من مسند أبي طلحة" دخلت المسجد فعرفت في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع فسألت أم سليم: هل عندك من شيء؟ فأشارت بكفيها فقالت: عندي شيء، فقلت: اصنعي اعجني، وأرسلت أنسا فقلت: ايته فساره في أذنه وادعه، فلما أقبل أنس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذا رجل قد أتاكم يخبرنا بشيء، أرسلك أبوك يدعونا"؟ قال أنس: نعم، قال: " قوموا بسم الله "، فأدبر أنس يشتد حتى أتى أبا طلحة فقال: رسول الله قد أتاك في الناس! قال أبو طلحة: فاستقبلته عند الباب على مستراح الدرجة فقلت: ماذا صنعت بنا يا رسول الله؟ إنما عرفنا في وجهك الجوع فصنعنا لك شيئا تأكله، قال: "ادخل وأبشر"، فدخل فأتي بصحفة، فجعل يسويها بيده ثم قال: " هل من كابه يعني الأدم"؟ فأتوه بعكتهم فيها شيء أو ليس فيها: فقال بيده فانسكب منها السمن، فقال: "أدخل علي عشرة عشرة"، قال: وهم زهاء مائة فدخلوا فأكلوا حتى شبعوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للفضل:" كلوا أنتم وعيالكم"، فأكلوا وشبعوا. "طب".
35481 ۔۔۔ مسند ابی طلحہ (رض) میں ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر بھوک کے آثار محسوس کیا ام سلیمہ سے پوچھا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ تو انھوں نے ہتھیلی سے اشارہ کرکے کہا کچھ ہے میں نے کہا جلدی سے تیار کروں اور انس (رض) کو بھیجا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر کان میں بتاؤ ان کو کھانے کے لیے بلاؤ جب انس (رض) پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مجلس سے فرمایا کہ یہ تمہیں کچھ بتانے آیا ہے کہ پوچھا کیا تمہارے آبانے بھیجا ہے انس نے (رض) نے کہا ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرمایا کہ اٹھو بسم اللہ انس (رض) دوڑتے ہوابوطلحہ کے پاس پہنچا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی جماعت لے کر آرہا ہے میں آگے پڑھا اور دروازے کے بارہرباکرملا اتگ کی اور عرض کیا یارسول اللہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ میں نے تو آپ کے چہرہ انور پر بھوک کے آثار دیکھا کہ صرف آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھر کے اندر جاکر بشارت دو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے برتن آپ کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے اپنے ہاتھ سے کھانے کو برابر کیا پوچھا کچھ سالن بھی ہے انھوں نے گھی کا دبہ پیش کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دس دس افراد کو شروں خواہ پر بیٹھا نے جاؤ کل سو کے قریب افراد تھے وہ داخل ہوئے گئے کھانے سے فارغ ہوئے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچے کھانے کے متعلق فرمایا کہ تم اور تمہارے گھروالے کھاتے انھوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ (طبرانی)