hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35491

.

كنز العمال

35491
Kanz al-Ummal
35482- عن أبي عمرة الأنصاري قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها فأصاب الناس مخمصة، فاستأذن الناس النبي صلى الله عليه وسلم في نحر بعض ظهورهم، فهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يأذن لهم في ذلك فقال عمر بن الخطاب: أرأيت يا رسول الله إذا نحن نحرنا ظهورنا ثم لقينا عدونا غدا ونحن جياع رجال! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فما ترى يا عمر " قال: تدعو الناس ببقايا أزوادهم ثم تدعو لنا فيها بالبركة، فإن الله تبارك وتعالى سيبلغنا بدعوتك إن شاء الله، فدعا بثوب فأمر به فبسط، ثم دعا الناس ببقايا أزوادهم، فجاؤا بما كان عندهم، فمن الناس من جاء بالحفنة من الطعام، ومنهم من جاء بمثل البيضة، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضع يده على ذلك الثوب ثم دعا فيه بالبركة وتكلم بما شاء أن يتكلم ثم نادى في الجيش، فجاؤا ثم أمرهم فأكلوا وطعموا وملأوا أوعيتهم ومزاودهم؛ ثم دعا بركوة فوضعت بين يديه، ثم دعا بماء فصبه فيها ثم مج فيها وتكلم بما شاء الله أن يتكلم ثم أدخل خنصره فيها، فأقسم بالله لقد رأيت أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم تفجر ينابيع من الماء! ثم أمر الناس فشربوا وسقوا وملأوا قربهم وأداويهم، ثم ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه ثم قال:" أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله لا يلقاه بهما أحد يوم القيامة إلا دخل الجنة على ما كان". "طب".
35482 ۔۔۔ ابوعمرہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے لوگوں کو بھوک نے ستایا لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی کہ سواری کے بعض جانور کو ذبح کیا جائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دینے کا ارادہ کیا تھا لیکن عمربن خطاب نے کہا یارسول اللہ اگر ہم نے سواری کے جانور ذبح کرڈالا کل کو پھر کسی دشمنی سے مقابلہ ہوجائے اور ہم بھوکے ہوں تو ہمارا کیا حال ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے عمر آپ کا کیا مشورہ ہے تو عرض کیا کہ لوگوں کو حکم دیں کہ ان کے پاس کھانے جو سامان باقی ہیں ان کو ایک جگہ جمع کریں پھر آپ ہمارے حق میں برکت کی دعا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے منزل تک پہنچا دے ان شاء اللہ تعالیٰ چنانچہ آپ نے ایک چادر منگوا کر بچھائی پھر لوگوں کو حکم دیا کہ کھانے پینے کے سامان اس میں جمع کردیں وہ اپنے پاس بچے ہوئے سامان لے آئے بعض تو ایک مٹھی جو لایا بعض انڈے برابر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگشت مبارک اس میں رکھدیا پھر اس میں برکت کی دعا کی اور جو کچھ عرض کرنا تھا کردیا پھر لشکر میں جمع ہونیثر کے لیے ندا کردایا پھر آپ نے کھانے کا حکم فرمایا سب نے پیٹ بھر کر کھایا اپنے برتن اور مشکیرے بھرلئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک برتن رکھا گیا پھر آپ نے پانی مانگوا اس میں ڈالا پھر اس میں کلی فرمایا پھر اللہ تعالیٰ سے حثب مناء عرض ومعروض کیا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگلی اس میں ڈال دی میں اللہ کی قسم کھاکرکہتاہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہتے دیکھا پھر آپ نے لوگوں کو پانی لینے کا حکم فرمایا لوگوں نے سیر ہو کر پیا انھوں نے اپنے مشکیزے اور برتنوں کو بھر لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے نواجد مبارک نظر آئے پھر فرمایا : ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد اعبدہ ورسولہ جو شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ان دونوں شہادتوں کے ساتھ ملاقات کرے وہ جنت میں داخل ہوگا کتناہی گناہ گار کیوں نہ ہو۔ (طبرانی)