35486- عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ادع أصحابك من أهل الصفة"، فجعلت أتتبعهم رجلا رجلا فجمعتهم، فجئنا باب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنا، فأذن لنا ووضعت بين أيدينا صفحة أظن أن فيها قدر مد من شعير فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده وقال: " خذوا بسم الله "، فأكلنا ما شئنا ثم رفعنا أيدينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين وضعت الصحفة: " والذي نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده! ما أمسى في آل محمد طعام ليس شيء ترونه"، قيل لأبي هريرة: قدر كم كانت حين فرغتم؟ قال: مثلها حين وضعت إلا أن فيها أثر الأصابع. "ز".
35486 ۔۔۔ ابوہریرة (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ساتھیوں کو بلا لواہل صفہ میں سے میں ایک ایک آدمی پاس گیا اور ان سب کو جمع کیا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر پہنچ گئے اور اندر آئے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت دے دی ہمارے سامنے ایک برتن رکھا گیا جس میں میرے خیال کے مطابق ایک مدجو ہوگی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک اس برتن میں ڈالا پھر فرمایا لوکھاؤ بسم اللہ ہم نے خوب پیٹ بھر کر کھایا بھر ہاتھ کھینچ لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس وقت آپ کے سامنے برتن رکھا گیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ان محمد کے پاس شام وقت اس کھانے علاوہ کوئی چیز نہیں جس کو تم دیکھ رہے ہو ابوہریرة (رض) سے پوچھا گیا کہ اس وقت تم کھانے سے فارغ ہوئے کھانا کتنی مقدار میں باقی تھا فرمایا جتنا شروع کرنے کے وقت تھا البتہ اس میں انگلیوں کے نشانات نظر آرہے تھے۔ (بزاز)