hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35501

.

كنز العمال

35501
Kanz al-Ummal
35492- عن عائشة قالت: استعرت من حفصة بنت رواحة إبرة كنت أخيط بها ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسقطت عني الأبرة، فطلبتها فلم أقدر عليها، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبنيت الإبرة بشعاع نور وجهه فضحكت، فقال: " يا حميراء! لم ضحكت"؟ قلت: كان كيت وكيت، فنادى بأعلى صوته: " يا عائشة! الويل ثم الويل لمن حرم النظر إلى هذا الوجه! ما من مؤمن ولا كافر إلا ويشتهي أن ينظر إلى وجهي. " الديلمي، كر".
35492 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت کہ میں نے حفصہ بنت رواحہ (رض) سے ایک سوئی رعایت پرلی تھی جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کپڑا سیا کرتی تھی مجھ سے وہ سوئی گرگئی ۔ میں نے اسے ڈھونڈا ، لیکن اسے نہ پاسکی ۔ اتنے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے۔ آپ کے چہرہ انور کی روشنی میں مجھے سوئی نظر آگئی تو میں ہنسی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیوں ہنسی اے حمیرا ؟ تو میں نے سارا معاملہ بتادیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے فرمایا کہ ہلاکت ہے ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جو اس چہرے کی طرف دیکھنے سے محروم کردیا گیا ، کوئی مومن اور کافرایسا نہیں جو اس چہرے کو دیکھنے کی خواہش اور تمنا نہ رکھتا ہو۔ (الدیلمی ابن عساکر)