hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35515

.

كنز العمال

35515
Kanz al-Ummal
35506- عن هبار بن الأسود قال: كان أبو لهب وابنه عتيبة ابن أبي لهب تجهزا إلى الشام فتجهزت معهما، فقال ابنه عتيبة: والله لأنطلقن إلى محمد ولأوذينه في ربه سبحانه وتعالى! فانطلق حتى أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! هو يكفر بالذي دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم ابعث عليه كلبا من كلابك"! ثم انصرف عنه فرجع إلى أبيه، فقال: يا بني! ما قلت له! فذكر له ما قال له، ثم قال: فما قال لك؟ قال قال: اللهم سلط عليه كلبا من كلابك! فقال: والله يا بني! ما آمن عليك دعاءه، فسرنا حتى نزلنا السراة وهي مأسدة فنزلنا إلى صومعة راهب، فقال الراهب: يا معشر العرب! ما أنزلكم هذه البلاد؟ فإنما تسرح الأسد فيها كما تسرح الغنم، فقال لنا أبو لهب: إنكم عرفتم كبر سني وحقي، فقلنا؟ أجل، يا أبا لهب؟ فقال: إن هذا الرجل قد دعا على ابني دعوة والله ما آمنها عليه! فاجمعوا متاعكم إلى هذه الصومعة وافرشوا لابني عليها ثم افرشوا حولها، ففعلنا فجمعنا المتاع ثم فرشنا له عليه وفرشنا حوله فبينا نحن حوله وأبو لهب معنا أسفل وبات هو فوق المتاع، فجاء الأسد فشم وجوهنا فلما لم يجد ما يريد انقبض فوثب وثبة فإذا هو فوق المتاع! فشم وجهه ثم هزمه هزمة ففشخ رأسه؛ فقال أبو لهب: لقد عرفت أنه لا ينفلت من دعوة محمد. "كر".
35506 ۔۔۔ ھبار بن اسود سے روایت ہے کہ فرمایا بولھب اور ان کا بیٹا عتبیہ بن ابی کھب نے شام جانے کی تیاری کی میں بھی ان کے ساتھ تیار ہوگیا تو اس کے بیٹے عتیبہ نے کہا واللہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤنگا اور ان کو رب سبحان تعالیٰ کے بارے میں اذیت دونگا وہ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ اور کہا اے محمد وہ انکار کرتا ہے اس ذات کی الذی دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی۔یا اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کو اس پر چھوڑ دے وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جب اپنے باپ کے پاس پہنچا تو باپ نے کہا اے بیٹے تم نے محمد کیا کہا تو اس نے اپنی بات دہرائی بھر پوچھا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں کیا کہا اس نے بتایا یوں کہا ہے اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کو مسلط فرمایا تو ابولھب نے کہا اے بیٹے میں تم پر ان کی دعا سے مالوں نہیں ہوں ہم شام کے لیے روانہ ہوئے مقام سراة میں نزول کیا وہ شیروں کے رہنے کی جگہ ہے ہم ایک راھب کے گرجے میں گئے راھب نے کہا اے عرب کی جماعت تم اس شہر میں کیسے اترگئے اس میں شیر اس طرح چرتے ہیں جس طرح بکریاں چرتی ہیں ابولھب نے کہا تم نے میرے بوڑھایا اور میرے حق کو پہنچانتے ہو ہم نے کہا ضرور اے ابولھب تو کہا اس شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے میرے بیٹے کے خلاف بددعا کی ہے اب میں اس کے متعلق مطمئن نہیں ہوں لہٰذا اپنا سامان اس گرجا میں جمع کرو میرے بیٹے کے لیے اس پر بستر بچھاؤ پھر تم اپنا بسر اس کے گردن بچھاؤ ہم نے ایسی ہی کیا اپنا سامان جمع کیا پھر اس کے لیے سامان پر بستر بچھا یا اور اپنے بستر اس کے گرد بچھایا ہم اس دوران کے ہم اس کے گرد تھے اور ابولھب بھی ہمارے ساتھ نیچی تھا وہ لڑکا خود سامان کے اوپر سو رہا تھا شیر آیا اور ہمارا چہروں کو سونگھا جو اس کو مطلوبہ چیز نہ ملی تو اس نے ایک جھلانگ لگایا اور وہ سامان کے اور تھا اس کا چہرہ سونگھا اور اس پر پنجہ مارا اس کے سر کو ٹکڑا کررہا ابولھب نے کہا مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بددعاء سے نہیں بچے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)