35550- عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على أم إبراهيم مارية القبطية وهي حامل منه بإبراهيم وعندها نسيب لها كان قدم معها من مصر وأسلم وحسن إسلامه وكان كثيرا ما يدخل على أم إبراهيم وإنه جب نفسه فقطع ما بين رجليه حتى لم يبق قليلا ولا كثيرا، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على أم إبراهيم فوجد عندها قريبها، فوجد في نفسه من ذلك شيئا كما يقع في أنفس الناس فرجع متغير اللون فلقيه عمر بن الخطاب فعرف ذلك في وجهه فقال: يا رسول الله! ما لي أراك متغير اللون؟ فأخبره ما وقع في نفسه من قريب مارية، فمضى بسيفه فأقبل يسعى حتى دخل على مارية فوجد عندها قريبها ذلك فأهوى بالسيف ليقتله، فلما رأى ذلك منه كشف عن نفسه، فلما رآه عمر رجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال: " إن جبريل أتاني فأخبرني أن الله عز وجل قد برأها وقريبها مما وقع في نفسي، وبشرني أن في بطنها مني غلاما، وأنه أشبه الخلق بي، وأمرني أن أسمي ابني إبراهيم، وكناني بأبي إبراهيم، ولولا أني أكره أن أحول كنيتي التي عرفت بها لاكتنيت بأبي إبراهيم كما كناني جبريل". "كر، وسنده حسن".
35550 ۔۔۔ عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ام ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) کے پاس تشریف لائے وہ حاملہ تھی ابراہیم (رض) کے ساتھ ان کے پاس ان کا ایک رشتہ دار بھی تھا جو مصر سے آیا ہوا تھا وہ مسلمان ہوگیا اور اچھا اسلام تھا ان کا وہ ام ابراہیم (رض) کے پاس اکثر آتا تھا اس نے اپنے کو محبوب بنالیا تھا یعنی الہ تناسل کو جر سے کاٹ دیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن ام ابراہیم کے پاس آیا تو ان کے پاس اس رشتہ دار کو پایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مئلہ سے پریشان ہوا جیسا کہ ایسے موقع پر لوگوں کے دلوں میں وسوسہ آیا کرتا ہے آپ واپس لوٹ گئے رنگ آپ کا بدل چکا تھا راستہ میں عمر بن خطاب (رض) سے ملاقات ہوئی انھوں نے آپ کے چہرہ مبارک کے تغیر کو سمجھ لیا پوچھا کیا وجہ یارسول اللہ آپ کے چہرہ رنگ بدل گیا ہے ؟ تو آپ نے نبلا یاماریہ کے رشتہ دار کے بارے جو کچھ دل میں پیدا ہوا تو عمر (رض) تلوار لے کر چل پڑا س رشتہ دار کو ماریہ (رض) کے پاس موجود پایاتو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے یہ حالت دیکھ کر اپنا ستر کھول کر اپنی حالت دکھا دی تو عمر (رض) واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واقعہ کی اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آیا تھا مجھے بتلایا اللہ تعالیٰ نے ماریہ (رض) کو بری قرار دیا اور اس کے رشتہ دار کو اس بات سے جو مری دل میں آیا اور مجھے بشارت دی ہے کہ ان کے پیٹ میں میری طرف سے حمل ہے اور وہ مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے اگر مجھے یہ بات ناپسندنہ کرتی ہو کہ مشہور کنیت کو بدل لوں تو میں اپنی کنیت ابوابراہیم رکھتا جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے میری کنیت ابوابراہیم رکھا ۔ ( ابن عساکر اور اس کی سند حسن ہے)