35558- "مسند شداد بن أوس" الوليد بن مسلم حدثنا صاحب لنا عن عبد الله بن مسلم حدثني عبادة بن نسي قال سمعت أبا العجفاء حدثني شداد بن أوس قال: أقبل رجل من بني عامر شيخ كبير يتوكأ على عصاه - حتى مثل بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! إنك تفوه بأمر عظيم! تزعم أنك رسول الله أرسلت إلى الناس كما أرسل موسى بن عمران وعيسى ابن مريم والنبيون من قبلهم! وإنما أنت رجل من العرب فما لك والنبوة؟ ولكن لكل قول حقيقة ولكل بدء شأن فحدثني بحقيقة قولك وبدء شأنك، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم حليما لا يجهل فقال له: " يا أخا بني عامر! إن للأمر الذي سألتني عنه قصصا ونبأ فاجلس حتى أنبئك بحقيقة قولي وبدء شأني "، فجلس العامري بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن والدي لما بنى بأمي حملت فرأت فيما يرى النائم أن نورا خرج من جوفها فجعلت تتبعه بصرها حتى ملأ ما بين السماء والأرض نورا، فقصت ذلك على حكيم من أهلها فقال لها: والله لئن صدقت رؤياك ليخرجن من بطنك غلام يعلو ذكره بين السماء والأرض! وكان هو الحي من بني سعد بن هوازن ينتابون نساء أهل مكة فيحضنون أولادهم وينتفعون بخيرهم، وإن أمي ولدتني في العام الذي قدموا فيه وهلك والدي فكنت يتيما في حجر عمي أبي طالب، فأقبل النسوة يتدافعنني ويقلن: ضرع صغير لا أب له فما عسينا أن ننتفع به من خير وكانت فيهن امرأة يقال لها أم كبشة ابنة الحارث فقالت: والله لا أنصرف عامي هذا خائبة أبدا؟ فأخذتني وألقتني على صدرها فدر لبنها فحضنتني؛ فلما بلغ ذلك عمي أبا طالب أقطعها إبلا ومقطعات من الثياب، ولم يبق عم من عمومتي إلا أقطعها وكساها، فلما بلغ ذلك النسوان أقبلن إليها يقلن: أما والله يا أم كبشة! لو علمنا بركة هذا تكون هكذا ما سبقتنا إليه ثم ترعرعت وكبرت وقد بغضت إلي أصنام قريش والعرب فلا أقربها ولا آتيها، حتى إذا كان بعد زمن خرجت بين أتراب لي من العرب نتقاذف بالأجلة - يعني البعر - فإذا بثلاثة نفر مقبلين معهم طست مملوء ثلجا فقبضوا علي من بين الغلمان، فلما رأى ذلك الغلمان انطلقوا هرابا، ثم رجعوا فقالوا: يا معشر النفر! إن هذا الغلام ليس منا ولا من العرب، وإنه لابن سيد قريش وبيضة المجد، وما من حي من أحياء العرب إلا لآبائه في رقابهم نعمة مجللة، فلا تصنعوا بقتل هذا الغلام شيئا، وإن كنتم لا بد قاتليه فخذوا أحدنا فاقتلوه مكانه، فأبوا أن يأخذوا مني فدية، فانطلقوا وأسلموني في أيديهم، فأخذني أحدهم فأضجعني إضجاعا رقيقا فشق ما بين صدري إلى عانتي، ثم استخرج قلبي فصدعه فاستخرج منه مضغة سوداء منتنة فقذفها، ثم غسله في تلك الطست بذلك الثلج ثم رده؛ ثم أقبل الثاني فوضع يده على صدري إلى عانتي، فالتأم ذلك كله؛ ثم أقبل الثالث وفي يده خاتم له شعاع فوضعه بين كتفي وثديي، فلقد لبثت زمانا من دهري وأنا أجد برد ذلك الخاتم، ثم انطلقوا؛ وأقبل الحي بحذافيرهم، فأقبلت معهم إلى أمي التي أرضعتني، فلما رأت ما بي التزمتني وقالت: يا محمد! لوحدتك وليتمك، وأقبل الحي يقبلون ما بين عيني إلى مفرق رأسي ويقولون: يا محمد! قتلت لوحدتك وليتمك، احملوه إلى أهله لا يموت عندنا فحملت إلى أهلي فلما رآني عمي أبو طالب قال: والذي نفسي بيده لا يموت ابن أخي حتى تسود به قريش جميع العرب! احملوه إلى الكاهن، فحملت إليه، فلما رآني قال: يا محمد! حدثني ما رأيت وما صنع بك، فأنشأت أقص عليه القصص، فلما سمعني وثب علي والتزمني وقال: يا للعرب! اقتلوه، فوالذي نفسي بيده! لئن بقي حتى يبلغ مبالغ الرجال ليشتمن موتاكم وليسفهن رأيكم وليأتينكم بدين ما سمعتم بمثله قط، فوثبت عليه أمي التي أرضعتني فقالت: إن كانت نفسك قد غمتك فالتمس لها من يقتلها، فأنا غير قاتلي هذا الغلام - فهذا بدء شأني وحقيقة قولي. فقال العامري: ما تأمرني به يا محمد؟ قال: آمرك أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، وتصلي الخمس لوقتهن، وتصوم شهر رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا، وتؤدي زكاة مالك؛ قال: فما لي إن فعلت ذلك؟ قال: جنات عدن تجري من تحتها الأنهار، ذلك جزاء من تزكى؛ قال: يا محمد! فأي المسمعات أسمع؟ قال: جوف الليل الدامس إذا هدأت العيون، فإن الله حي قيوم يقول: هل من تائب فأتوب عليه؟ هل من مستغفر فأغفر له ذنبه؟ هل من سائل فأعطيه سؤله؟ فوثب العامري فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله". "كر؛ وقال: هذا حديث غريب وفيه من يجهل. وقد روي عن شداد من وجه آخر فيه انقطاع".
35558 ۔۔۔ مسندشداد بن اوس میں کہ ولید بن مسلم نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ہے ہمارا ایک ساتھی نے عبداللہ بن مسلم سے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ہے عبادہ بن نسی نے انھوں نے کہا میں نے مجھ سے حدیث بیان کی ہے عبادہ بن نسی نے انھوں نے کہا میں نے سنا ابوالعجفاء سے انھوں نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی شداد بن اوس نے کہ نبی عامر کا ایک شخص آیا بوڑھا شیخ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے یہاں تک سامنے آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ زبان سے بڑی بات نکالتے ہیں آپ کا خیال یہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا جیسا کہ موسیٰ بن عمران اور عیسیٰ ابن مریم اور ان سے پہلے انبیاء کو بھیجا تھا آپ تو عربی ہیں آپ کا نبوت سے کیا واسطہ ؟ لیکن قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے ہر ظاہر والی چیز کی ایک شان ہوتی ہے اپنے قول اور ظہور شان کی حقیقت سے مطلع کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلیم تھے جہالت کا اظہار نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا اے نبی عامر کے بھائی جو بات آپ نے ہے اس کی ایک لمبی کہانی اور خبر ہے بیٹھ جائیں تاکہ اپنے قول کی حقیقت اور ظہور شان بیان کروں عامری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا میرے والد کے ملاپ کے بعد جب میری والدہ حاملہ ہوئیں تو انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے پیٹ سے ایک نور نکلا وہ اس نور کو دیکھتی رہی یہاں تک نور نے آسمان و زمین کے درمیان کے حصے کو نور سے بھر دیا میری والد نے یہ بات خاندان کے ایک سمجھدار شخص کو بتائی تو انھوں نے تعبیر بتلائی کہ اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کا تذکرہ آسمان و زمین کو بھر دے گا یہ نبی سعد بن ھوازن کا وہ قبیلہ تھا جس کی عورتیں باری باری مکہ آئیں اور ان کی اولاد کی پرورش کرنے اور ان کے مال سے منتقع ہوتی میری والدہ نے مجھے اسی سال جنا جس سال وہ آئی تھی میرے والد صاحب وفات پاچکے تھے میں اپنے چچا ابوطالب کی گود میں یتیم تھا عورتیں مجھے چھوڑجاتی تھیں اور کسی کہتی کہ یہ کمزور بچہ بے اس کے والد نہیں ہوسکتا ہے ہم میں کچھ مال و انعام نہ ملے اور ان میں ایک عورت تھی جس کو ام کبثہ ابثہ الحارث کہا جاتا اس نے کہا واللہ اس سال خالی ہاتھ ناکام واپس نہیں لوٹوں گی تو اس نے مجھے اٹھالیا اور اپنے سینہ سے لگایا تو فورا دودھ سے ان کی چھاتی پر ہوگئی انھوں نے میری پرورش کی جب میرے چچا کو یہ خبر پہنچی تو ان کے لیے اونٹ اور کچھ کپڑے بھیج دئیے میرے چچاؤں میں سے ہر ایک اونٹ اور کپڑا اس عورت کو دیا جب عورتوں کو یہ خبرپہنچی تو وہ کہنے لگیں اے ام کبثہ اگر ہمیں اس برکت کا علم ہوتا تو تو ہم سے اس بچہ کی طرف سبقت نہ کرسکتی میری شعرنما ہوئی میں بڑا ہواقریش اور عرب کے بت مجھے بہت مبغوض تھی نہ میں ان بتوں کے قریب جاتانہ تعظیم کرتا یہاں ایک زمانہ کے بعد میں اپنے ہم عمرعرب لڑکوں کے ساتھ نکلا مینگنی پھینک رہے تھے اچانک تین آدمی سامنے سے آئے ان کے ساتھ ایک برتن تھا جو برف سے بھرا ہوا تھا اور لڑکوں کے درمیان سے مجھے پکڑ لیاجب لڑکوں یہ دیکھاتو وہ بھاگ گئے پھر واپس ہو کر اے لوگو یہ لڑکا نہ ہم میں سے ہے نہ عرب ہے یہ قریش کے سردار کا بیٹا ہے بڑی عزت وشرف کا مالک ہے عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کی گردن پر ان کے اباء و اجداد کا بڑا احسان نہ ہو لہٰذا اس لڑکے کو بےفائدہ قتل مت کرو اگر تمہیں ضرور قتل ہی کرنا ہے تو اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو قتل کرو انھوں نے میرے بدلہ کسی اور کو قبول کرنے سے انکار دیا وہ لڑکے چلے گئے اور مجھے ان کا حوالہ کردیا ان میں سے ایک نے مجھے پکڑا اور اکرام سے لٹادیا پھر میرے سینے سے لے کرنا ف تک کے حصے کو چیردیا اس میں سے سیاہ بدبودار ٹکڑا نکالا اور اس کو پھینک دیا پھر اس کو اس برتن میں برف کے پانی سے دھویا پھر پیٹ کے اندر داخل کردیا پھر دوسرا شخص آیا اس نے میرے سینے پر ہاتھ رخھ کر اس کو جو ڑدیا پھر تیسرا آیا اس کے ہاتھ میں فہر تھا جس میں شفاع ہے اس کو میرے کندھوں اور ثار بین کے درمیان رکھدیا ایک زمانہ تک اس مہر نبوت کی ٹھنڈک محسوس کرتا تھا بھر وہ لوگ چلے گئے اور قبلیہ والے پورے کے پورے جمع ہوگئے ان کے ساتھ میری اض آئی ماں بھی اگنی جب میری حالت دیکھی تو مجھے اپنے سینہ سے لگالیا اور کہا اے محدم تمہارے اکیلادریتیم ہونے کی وجہ سے قبلیہ والے میرے پیشانی پر جو مادے رہے تھے اور کہہ رہے تھے محمد تمہارا کیلا اور یتیم ہونے کی وجہ ان کو گھروالوں کے پاس پہنچا دو کہیں ہمارے ہاں انتقال نہ ہوجائے وہ اٹھا کر میرے گھروالوں کے پاس لے آئی جب میرے چچا ابوطالب نے مجھے دیکھاتوکہا قسم ہے آس ذات کی جس کے قبضہ میری جان ہے میرا بھیجتے کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک تمام عرب کا سردار نہ بن جائے اس کو اٹھا کر کاہن کے پاس لے چلو مجھے افھاکرکابن کے پاس لے جایا گیا مجھے ددیکھنے کے بعد کہا اے محمد مجھے بتائیں آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا میں نے پورا واقعہ سناناشروع کیا جب پوری بات سن لی تو اس اچھل کر مجھے اپنے سینہ سے لگالیا اور کہا اے عرب کے باشندان کو قتل کردو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ جوانی تک زندہ رہاتو تمہارے مردوں کو گالیاں دیں گے اور تمہارے دین مذہب کے متعلق تمہیں وقوف ٹہرائیں گے اور تمہارے پاس ایک ایسا نیادین لے کر آئیں تم نے ہرگز اس جیسادین نہ سنا ہوگا تو اس پر میرے رضائی کو دیری اور کہا اگر تمہارے نفس کو غم لاحق ہوگیا ہے تو ان کے لیے قاتل تلاش کرلو میں اس لڑکے کو قتل نہیں کرسکتی یہ ہے میری شان کا ظہور اور میرے قول کی حقیقت عامری نے پوچھا مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو ارشاد فرمایا اس کلمہ کا قرار کر کو لا الہ الا اللہ وان محمداعبدہ ورسولہ اور پانچ کی نمازیں اداکرورمضان کے روزے اگر طاقت ہو بہت اللہ کا حج کرو اور مال کی زکوۃ اداکرو پوچھا اگر میں یہ کام کرلیا تو مجھے کیا اجر ملے گا ؟ تو فرمایا جنت کے باغات جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ بدلہ ہے پاکیزہ لوگوں کا پوچھا اے محمد کس وقت کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے فرمایا آدھی رات کی جب ٹھنڈے ہوجائیں اللہ تعالیٰ حئی اور قیوم اعلان فرماتے ہیں کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے میں اس کی توبہ قبول کروں کیا کوئے مغفرت طلب کرنے والا ہے میں اس کی مغفرت کردوں کیا کوئی سوال کرنے والا ہے میں اس کے سوال وپورا کردوں عامری نے جلدی سے پڑھا اشھد ان لاالہ اللہ وان محمد رسول اللہ (ابن عساکر کے کہا یہ حدیث غریب ہے اس میں مجہول راوی ہیں شراد سے دوسری طریق سے بھی مروی ہے جس میں انقطاع ہے)