hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35568

.

كنز العمال

35568
Kanz al-Ummal
35559- عن عمر بن صيح عن ثور بن يزيد عن مكحول عن شداد ابن أوس قال: بينا نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل من بني عامر وهو سيد قومه وكبيرهم ومديرهم يتوكأ على عصاه فقام بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم ونسب النبي صلى الله عليه وسلم إلى جده فقال: يا ابن عبد المطلب! إني أنبئت أنك تزعم أنك رسول الله إلى الناس، أرسلك بما أرسل به إبراهيم وموسى وعيسى وغيرهم من الأنبياء، ألا! وإنك قد تفوهت بعظيم! إنما كانت الأنبياء والملوك في بيتين من بني إسرائيل: بيت نبوة، وبيت ملك؛ فلا أنت من هؤلاء ولا أنت من هؤلاء، إنما أنت رجل من العرب، فما لك والنبوة! ولكن لكل أمر حقيقة فأنبئني بحقيقة قولك وشأنك. فأعجب النبي صلى الله عليه وسلم مسألته ثم قال: " يا أخا بني عامر! إن للحديث الذي تسأل عنه نبأ ومجلسا فاجلس، فثنى رجله وبرك كما يبرك البعير، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا أخا بني عامر! إن حقيقة قولي وبدء شأني دعوة أبي إبراهيم وبشرى أخي عيسى ابن مريم، وإني كنت بكر أمي وإنها حملتني كأثقل ما تحمل النساء حتى جعلت تشتكي إلى صواحبها ثقل ما تجد، وإن أمي رأت في المنام أن الذي في بطنها نور! قالت: فجعلت أتبع بصري النور، فجعل النور يسبق بصري حتى أضاء لي مشارق الأرض ومغاربها؛ فلما نشأت بغضت إلي الأوثان وبغض إلي الشعر، واسترضع لي في ديني جشم بن بكر، فبينا أنا ذات يوم في بطن واد مع أتراب لي من الصبيان إذ أنا برهط ثلاثة معهم طست من ذهب ملآن من ثلج فأخذوني من بين أصحابي، وانطلق أصحابي هرابا حتى انتهوا إلى شفير الوادي، ثم أقبلوا على الرهط فقالوا: ما لكم ولهذا الغلام؟ إنه غلام ليس منا وهو ابن سيد قريش وهو مسترضع فينا من غلام يتيم ليس له أب فماذا يرد عليكم قتله؟ ولئن كنتم لا بد فاعلين فاختاروا منا أينا شئتم فليأتكم فاقتلوه مكانه ودعوا هذا الغلام، فلم يجيبوهم، فلما رأى الصبيان أن القوم لا يجيبونهم انطلقوا هرابا مسرعين إلى الحي يؤذنونهم به ويستصرخونهم على القوم، فعمد إلي أحدهم فأضجعني إلى الأرض إضجاعا لطيفا، ثم شق ما بين صدري إلى متن عانتي وأنا أنظر فلم أجد لذلك مسا، ثم أخرج أحشاء بطني فغسله بذلك الثلج فأنعم غسله ثم أعادها مكانها؛ ثم قام الثاني فقال لصاحبه: تنح، ثم أدخل يده في جوفي فأخرج قلبي وأنا أنظر، فصدعه فأخرج منه مضغة سوداء فرمى بها، ثم قال بيده كأنه يتناول شيئا فإذا أنا بخاتم في يده من نور يخطف أبصار الناظرين دونه فختم على قلبي، فامتلأ نورا وحكمة، ثم أعاده مكانه، فوجدت برد ذلك الخاتم في قلبي دهرا؛ ثم قام الثالث فنحى صاحبيه فأمر بيده بين ثديي ومنتهى عانتي، والتأم ذلك الشق بأذن الله، ثم أخذ بيدي فأنهضني من مكاني إنهاضا لطيفا، فقال الأول الذي شق بطني: زنوه بعشرة من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: زنوه بمائة من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: زنوه بألف من أمته، فوزنوني فرجحتهم، ثم قال: دعوه فلو وزنتموه بأمته جميعا لرجح بهم، ثم قاموا إلي فضموني إلى صدورهم وقبلوا رأسي وما بين عيني ثم قالوا: يا حبيب! لم ترع، إنك لو تدري ما يراد بك من الخير لقرت عينك! فبينما نحن كذلك إذ أقبل الحي بحذافيرهم وإذا ظئري أمام الحي تهتف بأعلى صوتها وهي تقول: يا ضعيفاه، فأكبوا علي يقبلوني ويقولون: يا حبذا أنت من ضعيف! ثم قالت: يا وحيداه! فأكبوا علي وضموني إلى صدورهم وقالوا: يا حبذا أنت من وحيد! ما أنت بوحيد، إن الله معك وملائكته والمؤمنون من أهل الأرض، ثم قالت: يا يتيماه! استضعفت من بين أصحابك فقلت لضعفك، فأكبوا علي وضموني إلى صدورهم وقبلوا رأسي وقالوا: يا حبذا أنت من يتيم! ما أكرمك على الله تعالى! لو تعلم ماذا يراد بك من الخير! فوصلوا إلى شفير الوادي، فلما بصرت بي ظئري قالت: يا بني! ألا أراك حيا بعد؟ فجاءت حتى أكبت علي فضمتني إلى صدرها، فوالذي نفسي بيده! إني لفي حجرها قد ضمتني إليها وإن يدي لفي يد بعضهم وظننت أن القوم يبصرونهم فإذا هم لا يبصرونهم، فجاء بعض الحي فقال: هذا غلام أصابه لمم أو طائف من الجن، فانطلقوا بنا إلى الكاهن ينظر إليه ويداويه، فقلت له: يا هذا! ليس بي شيء مما تذكرون، إن لي نفسا سليمة وفؤادا صحيحا وليس بي قلبة، فقال أبي - وهو زوج ظئري: ألا ترون كلامه صحيحا؟ إني لأرجو أن لا يكون بابني بأس، فاتفق القوم على أن يذهبوا بي إلى الكاهن، فاحتملوني حتى ذهبوا بي إليه فقصوا عليه قصتي، فقال اسكتوا حتى أسمع من الغلام فإنه أعلم بأمر، فقصصت عليه أمري من أوله إلى آخره، فلما سمع مقالتي ضمني إلى صدره ونادى بأعلى صوته: يا للعرب! اقتلوا هذا الغلام واقتلوني معه، فو اللات والعزى! لئن تركتموه ليبذلن دينكم وليسفهن أحلامكم وأحلام آبائكم وليخالفن أمركم وليأتينكم بدين لم تسموا بمثله، فانتزعته ظئري من يده وقالت: لأنت أعته منه وأجن، ولو علمت أن هذا يكون من قولك ما أتيتك به، ثم احتملوني ما ردوني إلى أهلي، فأصبحت مغموما مما دخل بي، وأصبح أثر الشق ما بين صدري إلى منتهى عانتي كأنه شراك. فذاك حقيقة قولي وبدء شأني". فقال العامري: أشهد أن لا إله إلا الله وأن أمرك حق، فأنبئني بأشياء أسألك عنها، قال: "سل عنك" - وكان يقول للسائلين قبل ذلك سل عما بدا لك، فقال يومئذ للعامري: سل عنك، فإنها لغة بني عامر فكلمه بما يعرف - فقال العامري: أخبرني يا ابن عبد المطلب! ماذا يزيد في الشر؟ قال: "التمادي"، قال: فهل ينفع البر بعد الفجور؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، إن التوبة تغسل الحوبة ، وإن الحسنات يذهبن السيئات، فإذا ذكر العبد ربه في الرخاء أعانه عند البلاء"، قال العامري: وكيف ذلك يا ابن عبد المطلب؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ذلك بأن الله يقول: لا أجمع لعبدي أبدا أمنين ولا أجمع له أبدا خوفين، إن هو أمنني في الدنيا خافني يوم أجمع فيه عبادي، وإن هو خافني في الدنيا أمنته يوم أجمع فيه عبادي في حظيرة القدس، فيدوم له أمنه ولا أمحقه فيمن أمحق" فقال العامري: يا ابن عبد المطلب! إلى ما تدعو؟ قال: "أدعو إلى عبادة الله وحده لا شريك له، وأن تخلع الأنداد وتكفر باللات والعزى: وتقر بما جاء من الله من كتاب ورسول، وتصلي الصلوات الخمس بحقائقهن، وتصوم شهرا من السنة، وتؤدي زكاة مالك فيطهرك الله به ويطيب لك مالك، وتحج البيت إذا وجدت إليه سبيلا، وتغتسل من الجنابة، وتقر بالبعث بعد الموت وبالجنة والنار"، قال: يا ابن عبد المطلب! فإذا أنا فعلت هذا فما لي؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: {جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى} ، قال: يا ابن عبد المطلب! هل مع هذا من الدنيا شيء؟ فإنه يعجبنا الوطاءة في العيش، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نعم، النصر والتمكين في البلاد"، فأجاب العامري وأناب. "ع وأبو نعيم في الدلائل، كر، وقال مكحول لم يدرك شدادا".
35559 ۔۔۔ عمر بن صیح ثور بن یزید سے وہ مکحول سے وہ شداد بن اوس سے روایت کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ؟ نبی عامر کا ایک شخص آیا وہ قوم کا سردار ان کا بڑا اور بائیس تھا اپنی لاٹھی پر ٹیک لگایا ہوا تھا اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوگیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب داداتک پہنچایا اور کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے مجھے خبردی گئی کہ تمہارا خیال ہے کہ تم تمام لوگوں کی طرف اللہ کے رسول ہو ایسی ہی رسالت کے دے کر بھیجے گئے جو ابراہیم موسیٰ عیسیٰ (علیہم السلام) وغیرہ انبیاء کودے کر بھیجے گئے تھے سن لو تم نے زبان سے بہت بری بات کہی ہے انبیاء اور بادشاہ نبی اسرائیل کے دوگھرانہ میں ہوئے ایک نبوت کا گھرانہ اور ایک بادشاہ کا گھرانہ آپ نہ ان میں سے میں نہ ان میں سے آپ تو ایک عربی شخص ہیں آپ کا نبوت سے کیا واسطہ لیکن ہر بات کی ایک حقیقت اور شان ہوتی ہے اپنے قول اور شان کی حقیقت بتائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خے سوال پر تعجب ہواپھر فرمایا اے نبی عامر کے بگائی جو بات پوچھنا چاہتے اس کا عباداستان ہے آپ بیٹھیں انھوں نے پاؤں موڑ لیے ایسے بیٹھ گئے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عامری بھائی میری قول اور ظہور شان کی حقیقت میرے والدابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے اور میرے بھائی عیسیٰ بن مریم کی بشارت ہے میں اپنی والدہ کا پہلا بیٹاہوں جب میری والدہ حاملہ تھی ان کو بھی دوسری عورتوں کی طرح حمل کا بوجھ محسوس ہوا اور میری والدہ نے ایک خواب دیکھا کہ جو حمل ان کے پیٹ میں ہے وہ نور ہے میں نور کو دیکھنے لگی تو نور میری حد نظر اسے آگے نکل گیا یہاں تک میرے لیے مشرق ومغرب منور ہوگیا جب میں بڑا ہوا تو بتوں سے مجھے بغض ہوگیا اسی طرح استعار سے بھی اور مجھے دودھ پلایا گیا نبی جثم بن بکر میں اس دوران کہ میں اپنے ہم لڑکوں کے ساتھ ایک وادی میں تھا اچانک تین آدمیوں کی جماعت سے ملاقات ہوگئی ان کے ساتھ سونے کی پلیٹ تھی جو برف سے بھری ہوئی انھوں نے ساتھیوں کے درمیان سے مجھے پکڑا لیا میرے ساتھی باگ کرادی کے کنارہ تک پہنچ گے پھر اس جماعت کے پاس واپس آئے اور پوچھا تم اس لڑکے کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو یہ تو ہمارے قبیلہ کا نہیں ہے بلکہ قریش کے سردار کا بیٹا ہے وہ ہمارے قبیلہ میں دودھ بلایا گیا ہے وہ اور یتیم ہے ان کا والد نہیں ان کے قتل کا کیا فائدہ ہوگا اگر تم نے قتل کرنا ہی ہے تو ہم میں سے جس کو جائیں بکڑ لیں ان کی جگہ قتل کریں اور اس لڑکے کو چھوڑ دیں انھوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا جب لڑکوں نے دیکھا کہ ان لوگوں ان کی کوئی بات قبول نہیں کی تو تیزی کے ساتھ بھاگ کر قبیلہ والوں کے پاس پہنچ گئے تاکہ ان کو مطلع کریں اس کے لیے قوم کو زور سے آواز دی تو اس جماعت میں سے ایک نے مجھے آرام سے زمین پر لٹادیا پھر میرے سینہ کو ناف تک چیرا میں اس کو دیکھتا رہا میرے لیے اس لیے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا پھر میرے پیٹ کی انتڑیوں کو باہر نکالا ان کو برف کے پانی سے دھویا اور بہت اچھی طرح دھویا پھر ان کی اپنی جگہ لوٹا دیا پھر دوسرا آگے بڑھا اپنے ساتھی کو ایک طرف ہونے کو کہا اس نے میرا پیٹ میں ہاتھ ڈالا اور میرے دل کو نکالا اور میں دیکھتا رہا اس کو چرا اور اس میں سیاہ لوئر انکالا اور اس کو پھینک دیا پھر ہاتھ پھیلا یا گویا کہ کوئی چیز لے رہا ہے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہے نور کی جو دیکھنے والی کی نظر کو آچک نے اس سے میرے دل پر مہر لگادی اب میرا دل نور اور حکمت سے بھر گیا پھر اس کو اپنی جگہ لوٹا دیا پھر اس مہر کی ٹھنڈک ایک زمانہ تک محسوس کرتا تھا بھر تیسراکھڑا ہوگیا پہلے دونوں ایک طرف ہوگئے انھوں نے اپنا ہاتھ میرے پورے زخم پر پھیرا اور اللہ کے حکم سے اس چیز کو جو ڑدیا سینہ سے ناف تک پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کردیا اپنی جگہ سے کہ بہت ہلکازخم ہے پہلا جس نے میرے پیٹ کو چیرا لگایا کہا ان کو اپنی امت کے دس افراد کے ساتھ وزن کرو وزن کیا تو میں بھاری نکلا پھر کہا سو کے مقابلہ میں وزن کو وزن کیا گیا تو میں بھاری نکلا بھرکہا ہزار کے مقابلہ میں وزن کرو انھوں نے وزن کیا تو میں بھاری نکلا بھر کہا چھوڑ دو اگر پوری امت سے بھی موازنہ کیا جائے تب بھی یہ بھاری نکلے گا پھر کھڑے ہوگئے مجھے اپنے شینہ سے لگایا اور میرے سر اور بشانی کا بوسہ لیا پھر کہا اے جیبی گھبراؤ نہیں اگر آپ کو معلوم ہوجائے آپکے ساتھ کس بھلائی کا ارادہ کیا گیا آپ کی آنکھیں ٹھنڈے ہوجائیں ہم اسی حالت میں تھے کہ قبلیہ والے اکٹھے ہو کر آگئی اور میری دائبیہ بھی تھیں جو قبیلہ والوں کے آگے بلند آواز سے پکاررہی تھیں ہائے کمزور اب سب سے مجھے جو مادیا اور کہہ رہے ہائے خوش نصیبی تم کمزور ہو پھر میری رضاعی ماں نے کہا ہائے اکیلا پھر مجھے اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا کیا اچھی بات ہے کہ تم اکیلے ہو تم اکیلے نہیں ہو تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ فرشتے اور زمین کے مومنین ہیں پھر کہا اے یتیم آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں کتنے کریم ہیں ؟ کاش تمہیں معلوم ہوتا جو تمہاڑے ساتھ خیر کا ارادہ ہوا مجھے لے کروادی کے کنارہ تک پہنچ گئے جب میری دائبہ نے مجھے دیکھاتو کہا اے بیٹے کیا میں آپ کو زندہ نہیں دیکھو نگی ؟ وہ آئی اور مجھے اٹھا کر اپنے سینہ سے لگایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں ان کی گود میں تھا انھوں نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا اور میرا دوسروں کے ہاتھ میں تھا میرے خیال یہ ہے لوگ ان کو دیکھ رہے تھے لیکن دیکھ نہ پائی قبلیہ کے بعض لوگ آئے انھوں نے کہا اس لڑکے پر جنون یاجنات کے اترات میں کوئی کاہن دیکھو جو اس کو دیکھے اور اس کا علاج کرے میں نے کہا اے شخص مجھے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو تم کہہ رہنے ہو میرا نفس سلیم ہے دل صحیح ہے مجھے کوئی ترودیادہم نہیں ہنے میرے رضائی والد نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے ہو یہ صحیح گفتگو کررہے ہیں مجھے امید ہے کہ میرے بیٹے کو ایسی کوئی تکلیف نہیں ہے باہر قوم کا اتفاق بھر ا کہ مجھے کاہن کے پاس لے جایا جائے مجھے اٹھاکر کاہن کے پاس لے گئے اور اس کو واقعہ سنایا اس نے کہا اس نے کہا تم لوگ خاموش رہو میں خود اس لڑکے سے براہ راست سنتاہوں کیونکہ وہ اپنے واقعہ خود جانتا ہے چنانچہ میں نے شروع سے آخر پورا واقعہ سنا دیا جب اس نے میری بات سنی اس نے مجھ کو اپنے سینہ سے لگایا اور زور سے کہا اے عرب والوں اس لڑکے کو قتل کردو اور مجھے بھی اس کے ساتھ قتل کردولات وعزی کی قسم اگر تم اس کو چھوڑ دیا تو یہ تمہارے ابائی دین کو بدل دے غاتمہاری اور تمہارے اباء واجد اد کی عقلون کو بیوقوف ٹہرائے گا اور تمہارے پاس ایسا دین لے کر آئے گا جو تم پہلے کبھی نہ سنا ہوگا میری دائیہ نے مجھ اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور کہا تم ان سے زیادہ سرکش اور زیادہ مجنون معلوم ہوتا اگر مجھے آسکا علم ہوتا تمہارے پاس لے کر نہ آئی پھر مجھے اٹھا کر لایا اور اپنے گھر والوں کو واپس کردیا میں غم گین ہو اس سے جو میرے ساتھ واقعہ پیش آیا اور شق کرنے نشان بڑا گیا سینہ لے کر ناف کے نیچے تک گویا کہ تسمہ ہے یہ ہے کہ میرے قول کی حقیقت اور میری شان کا ظہور عامری نے یہ سن کر کہا اشھدان لاالہ الا اللہ وان امراک حق مجھے کچھ باتیں بتلائیں جو میں تچھ سے پوچھتا ہوں کہا سل عنک اس سے پہلے تک سائل کو سل مابداء لک کہا جاتا تھا اس دن عامری کو سل عنک فرمایا کیونکہ یہ نبی عامر کی لغت ہے ان سے ان کی معروف زبان میں بات کی توعامری نے کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے شر میں کیا چیز اضافہ کرتی ہے بتایا سر کسی پوچھا کیا گناہ کے بعد نیکی فائدہ دیتی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں توبہ گناہ کو دھو دیتی ہے اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کو خوشی کی حالت میں یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بری حالت میں اس کی مدد فرماتا ہے عامری نے پوچھا وہ کیسے اے عبدالمطلب کے بیٹے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں اپنے بندوں کے لئی دو امن اور دو خوف کو جمع نہیں کر اگر وہ دنیا میں مجھ سے مامون رہا آخرت میں خوف زدہ ہوگا جس دن میں اپنے بندوں کو جمع کروں گا اگر وہ دنیا میں مجھ سے خائف رہا آخرت میں اس کو امن دونگا جس میں بندوں کو حظیرة القدس میں جمع کروں گا اس کا امن دائمی ہوگا جن کو مٹاؤں گا ان کے ساتھ ان کو نہیں مٹادونگا عامری نے کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے کن باتوں کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں فرمایا ایک اللہ کی عبادت کی طرف جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تمام شرکاء کا انکار کرے اور لدت وعزی سے انکار کرے اور اقرار کرے اس کتاب ورسول کا جو رسول کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا اور پانچ وقت کی نماز ان کے حقوق کے ساتھ کے اداکریں اور سال میں ایک ماہ کا روزہ رکھیں اپنے مال کی زکوۃ اداکریں اللہ تعالیٰ کے ذریعہ تمہیں پاک فرمائے گا تمہارا مال بھی پاکیزہ ہوجائے غا اور بیت اللہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچے کی استطاعت ہو اور جنابت کا غسل کریں اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا اور جنت وجہنم کا اقرار کریں کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے اگر میں نے یہ کام کرلیا تو مجھے کیا اجر ملے گا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیشہ رہنے کے باغات جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اس ان میں ہمیشہ رہے گا یہ بدلہ ہے اس کا جس نے گناہوں سے پاکی حاصل کرلی کہا اے عبدالمطلب کے بیٹے کیا اس کے ساتھ دنیا کی اور کوئی کیونکہ مجھے زندگی میں وسعت پسند ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں فتح اور شہروں پر غلبہ حاصل کرنا عامری نے ابن کو قبول کر اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوا۔ (ابویعلی ابونعیم فی الدلائل اور کہا مکحول نے کی شداد سے ملاقات ثابت نہیں)