35577- عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن داود حين نظر إلى المرأة وهم، قطع على بني إسرائيل وأوصى صاحب البعث فقال: إذا حضر العدو فقرب فلانا بين يدي التابوت - وكان التابوت في ذلك الزمان يستنصر به من قدم بين يدي التابوت لم يرجع حتى يقتل أو ينهزم عنه الجيش - فقتل زوج المرأة ونزل المكان على داود يقصان عليه قصته ففطن داود فسجد فمكث أربعين ليلة ساجدا حتى نبت الزرع من دموعه على رأسه وأكلت الأرض جبينه يقول في سجوده: زل داود زلة أبعد ما بين المشرق والمغرب، رب! إن لم ترحم ضعف داود وتغفر ذنبه جعلت ذنبه حديثا في الخلوف من بعده، فجاءه جبريل بعد أربعين ليلة فقال له: يا داود! قد غفر الله لك الهم الذي هممت، قال داود: قد علمت أن الله قادر أن يغفر لي الهم الذي هممت به وقد علمت أن الله عدل لا يميل فكيف بفلان إذا جاء يوم القيامة؟ فقال: يا رب! دمي الذي عند داود! فقال له جبريل: ما سألت ربي عن ذلك ولئن شئت لأفعلن، قال: نعم، فعرج جبريل فسجد داود فمكث ما شاء الله، ثم نزل فقال: سألت الله يا داود عن الذي أرسلتني إليه فيه فقال: قل لداود: إن الله يجمعكم يوم القيامة فيقول: هب لي دمك الذي عند داود، فيقول: هو لك يا رب! فيقول: فإن لك في الجنة ما اشتهيت وما شئت عوضا". "كر".
35577 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب داؤد (علیہ السلام) نے عورت کی طرف دیکھا اور ارادہ کیا نبی اسرائیل کا راستہ بند ہوگیا لشکر کو کمانڈکو حکم دیا کہا جب دشمن سامنے آئے تو فلاں کو تابوت کے قریب کردینا اس زمانہ میں تابوت کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاتی تھی جو بھی تابوت کے سامنے آئے وہ واپس نہیں لوٹتا یہاں تک قتل ہوجائے یا لشکر شکست رکھاجائے اس عورت کا شوہر قتل کیا گیا داؤد (علیہ السلام) کے پاس آکر اس کی شہادت کا قصہ سنانے لگاداؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے اس لیے دوسجدہ میں کرگئے چالیس سال تک سجدہ میں گرے رہے یہاں تک ان کے آنسو ان کے سرپرگھاس اگ گئے اور ان کے اخبار کو زمین کھاگئی وہ سجدہ میں کہہ رہے تھے داؤد (علیہ السلام) ایک مرتبہ پھیلا جس سے مشرق ومغرب کی دوری ہوگئی اے رب اگر آپ داؤد کی کمزوری پر رحم نہیں فرمائیں گے ان کا گناہ معاف نہیں فرمائیں گے تو ان کا گناہ بعد میں آنے والوں میں موضوع بحث بن جائے گا چالیس سال کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس آیا اور کہا اے داؤد اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس ہم (گناہ کا ارادہ) کو معاف فرمادیا تو داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے یقین ہے اس ہم کے معاف کرنے پر قادر ہے مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف فرمانے والا ہے ظلم نہیں فرماتے فلاں کا کیا حال ہوگا جب اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا وہ کہے گا اے رب میرا خون داؤد پر ہے جبرائیل نے کہا میں نے رب تعالیٰ سے اس بارے میں نہیں پوچھا ہے اگر چار میں تو پوچھ کر آتاہوں تو فرمایا ہاں پوچھ لیں جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دربار میں گئے اور داؤد (علیہ السلام) بھر سجدہ میں گرگئے پھر جبرائیل علیہ الالم نے اگر بتایا کہ اے داؤد تمہارے مسئلہ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا ہے تو باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ داؤد سے کہو اللہ تعالیٰ تم دونوں کو قیامت کے ذن جمع فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ سے فرمائیں گے تمہارا خن جو داؤد کے ذمہ ہے وہ مچھے ھبہ کردو وہ مقتول کہے گا کہ میں نے ھبہ کردیا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے تمہارے لیے جنت میں اس کے بدلہ میں ہر طرح کی نعمتیں ہونگی جو تمہارا دل چاہے۔ (رواہ ابن عساکر)