35578- عن أبي موسى: أعجزت أن تكون مثل عجوز بني إسرائيل! إن موسى حين أراد أن يسير ببني إسرائيل ضل الطريق فسأل بني إسرائيل: ما هذا؟ قال علماء بني إسرائيل: إن يوسف حضره الموت أخذ علينا موثقا من الله ألا نخرج من مصر حتى تنقل عظامه معنا، فقال لهم موسى: أيكم يدري أين قبر يوسف؟ فقال له علماء بني إسرائيل: ما يدري أين قبر يوسف إلا عجوز من بني إسرائيل، فأرسل إليها موسى فقال: دليني على قبر يوسف، فقالت: لا والله حتى تعطيني حكمي! قال: وما حكمك؟ قالت: حكمي أن أكون معك في الجنة، فكأنه ثقل ذلك عليه، فقيل له: أعطها، فأعطاها حكمها، فانطلقت بهم إلى بحيرة مستنقع ماء فقالت: انضبوا هذا الماء، فلما نضبوا قالت: احفروا في هذا المكان، فلما احتفروا أخرجوا عظام يوسف، فلما استنقلوها من الأرض إذا الطريق مثل النهار. "طب، ك - عن أبي موسى".
35578 ۔۔۔ ابوموسی سے روایت ہے کہ کیا تو نبی اسرائیل کی سے بڑھیا کی مثل ہونے سے عاجز ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب نبی اسرائیل کو لے کر سفر کرنے کا ارادہ کیا راستہ بھول گیا نبی اسرائیل سے پوچھا یہ کونسی جگہ ہے علماء بنی اسرائیل نے کہا یوسف (علیہ السلام) نے موت کے وقت ہم سے اللہ کا عہدلیا تھا کہ ہم مصر سے منتقل ہوتے وقت ان کا تابوت ساتھ لیجائیں گے تم میں سے کسی کو یوسف (علیہ السلام) کی قبر معلوم ہے علماء نبی اسرائیل نے کہا ہمیں تو معلوم نہیں لیکن نبی اسرائیل کی ایک بڑھیا کو معلوم ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو بلوایا اس سے کہا یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا پتہ بتلاؤ تو اس نے کہا اور اس وقت تک نہیں بتلادنگی جب تک میرا مطالبہ پورا نہیں کرتے پوچھا تمہارا کیا مطالبہ ہے بتایا کہ میں جنت میں تمہاری معیت چاہتاہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ مطالبہ بھاری گذرا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا ان کا مطالبہ مان لوچنانچہ مان لیا گیا ان کو لے کر دو دریاؤں کے پانی ملنے کی جگہ پر گئی کہنے اس پانی کے اترنے کا انتظار کرو جب پانی اتر گیا تو کہا اس جگہ کھدائی کرو جب کھدائی کی یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیاں نکل آئیں جب یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو منتقل کردیا اب لفر کا راستہ یا نکل واضح ہوگیا۔ (طبرانی حاکم بروایت ابی موسیٰ (رض))