35580- "مسند شداد بن أوس" بكى شعيب النبي من حب الله عز وجل حتى عمي، فرد الله إليه بصره وأوحى الله إليه: يا شعيب، ما هذا البكاء؟ أشوقا إلى الجنة أو فرقا من النار؟ قال: إلهي وسيدي! أنت تعلم، ما أبكي شوقا إلى جنتك ولا فرقا من النار، ولكن اعتقدت حبك بقلبي، فإذا أنا نظرت إليك فما أبالي ما الذي صنع بي؟ فأوحى الله إليه: يا شعيب! إن يك ذلك حقا فهنيئا لك لقائي يا شعيب ولذلك أخدمتك موسى بن عمران كليمي. "الخطيب وابن عساكر - عن شداد بن أوس، وفيه إسماعيل بن علي ابن الحسن بن بندار بن المثني الإسترابادي الواعظ أبو سعيد، قال الخطيب: لم يكن موثوقا به في الرواية والحديث منكر، وقال الذهبي في الميزان: هذا حديث باطل لا أصل له، وقال ابن عساكر: رواه الواحدي عن أبي الفتح محمد بن علي الكوفي عن علي بن الحسن بن بندار، كما رواه ابنه إسماعيل عنه فقد برئ من عهدته، قال: والخطيب إنما ذكره لأنه حمل فيه على إسماعيل".
35580 ۔۔۔ (مسند شداد بن اوس) شعیب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی محترت میں روتے رہے حتی کہ نابینا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی واپس کردی اور وحی فرمائی اے شعیب اس رونے کا سبب کیا ہے ؟ جنت کا شوق ہے یا جہنم کا خوف ؟ عرض کیا اے میرے معبود میرے مولی آپ کو معلوم ہے نہ میں جنت کے شوق میں روتاہوں نہ جہنم کے خوف سے لیکن میں نے اپنے دل میں آپ کی محبت کی وجہ دی ہے جب میں آپ کی طرف دیکھاہوں مجھے معلوم نہیں آپ میرے ساتھ کیا معاملہ فرمانے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے شعیب اگر یہ بات حق ہے تو آپ کو میری ملاقات مبارک ہو اسی وجہ سے میں نے موسیٰ بن عمران کلیمی کو آپ کا خادم بنادیا۔ (الخطیب وابن عساک ربروایت شدادبن اوس اس میں اسماعیل بن علی بن بتدار بن ثنی اسآبادی واعظا ابوسعید ہے خطیب نے کہا رویت میں ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا حدیث منکر ہے ذہنی نے میزان میں کہا یہ حدیث باطل ہے آس کی کوئی اصل نہیں ابن اعسا کرنے کہا اس کو واحڈی نے آبوالفتح محمد بن علی کوفی سے آنہوں نے علی بن حسن بن بندار سے جیسے ان کے بیٹا اسماعیل نے ان سے روایت کی ہے لہٰذا اس کی ذمہ داری سے بری ہوگیا خطیب نے کہا اس لیے ذکر کیا کہ اس میں اسماعیل)