35579- عن الأصبغ بن نباتة قال: أقبل رجل من حضرموت فأسلم على يدي علي فقال له علي: أتعرف الأحقاف؟ قال له الرجل: كأنك تسأل عن قبر هود؟ قال: نعم، قال: خرجت وأنا في عنفوان شبيبتي في غلمة من الحي ونحن نريد أن نأتي قبره لبعدصوته كان فينا وكثرة من يذكره منا: فسرنا في بلاد الأحقاف أياما ومعنا رجل قد عرف الموضع، فانتهينا إلى كثيب أحمر فيه كهوف كثيرة، فمضى بنا الرجل إلى كهف منها فدخلناه، فأمعنا فيه طويلا، فانتهينا إلى حجرين قد أطبق أحدهما دون الآخر وفيه خلل يدخل منه الرجل النحيف، فدخلته فرأيت رحلا على سرير شديد الأدمة طويل الوجه كث اللحية قد يبس على سريره، فإذا مسست شيئا من جسده أصبته صليبا لم يتغير، ورأيت عند رأسه كتابا بالعربية: أنا هود الذي أسفت على عاد بكفرها وما كان لأمر الله من مرد. قال لنا علي، كذلك سمعته من أبي القاسم صلى الله عليه وسلم. "كر".
35579 ۔۔۔ اصح بن نباثہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضر موت سے آکر علی (رض) کے ہاتھ پر بیعت ہوگئے علی (رض) نے اس سے پوچھا کہ تم احقاق کو جانتے ہوئے اس شخص نے کہا شاید آپ ھود علیہ السلام کی قبر کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا ہاں تو اس نے بتایا ہاں جانتا ہوں میں عین جونی کے زمانہ میں اپنے گاؤں کے چند لڑکوں کے ساتھ نکلا ہم ان کی قبر پر جانا چاہتے تھے ان کے کا زمانہ پورا ہونے کے باوجود ان کا تذکرہ ہوتارہتا ہے چنانچہ چند دنوں میں ہم بلاواحقاف میں پہنچے ہم میں ایک شخص اس غار سے واقف تھا ہم ایک سرخ ٹیلے پر پہنچ گئے جس میں بہت سے غار تھے وہ شخص ہمیں ایک غار میں لے گئے ہم اس داخل ہوئے ہم نے دور تک نظر دوا کر دیکھا پھر ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک پتھر کو دوسرے پتھر پر رکھا ہوا اس میں ایک سوارخ تھا جس سے ایک کمزور آدمی گذر سکتا تھا چنانچہ میں اس سوراخ سے داخل ہوگیا میں نے اس میں نے اس میں پلنگ پر ایک شخص کو دیکھا جو سخت گندمی رنگ کا تھا چہرہ طویل داڑھی گھنی جو اپنی چارپائی پر سخت ہوگئے تھے جب میں جس کے بعض حصہ کو ہاتھ لگاکر دیکھا اس سخت پایا اس میں کوئی تغیر نہیں آیا ان کے سرہانے عربی زبان میں ایک کتاب تھی اس میں لکھا ہوا تھا میں ہوں جس کو قوم عاد پر افسوس ہے ان کے کفر پر اللہ تعالیٰ کے حکم کوئی ٹالنے والا نہیں علی (رض) نے ہم سے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم سے ھود (علیہ السلام) کے متعلق ایسا سنا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)