35586- عن زاذان قال: قدم علينا عمر بن الخطاب بالجابية على بعير مقتب عليه عباءة قطوانية وبيده عنزة فقال: أيها الناس! إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ثم بكى، ثم قال: سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أيها الناس! عليكم بأصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثلاثة قرون، ثم يجيء قوم لا خير فيهم، يشهدون ولا يستشهدون، ويحلفون، ولا يستحلفون، من سره أن ينزل بحبوحة الجنة فعليه بالجماعة، ألا إن الواحد شيطان وهو من الاثنين أبعد، ومن ساءته سيئته وسرته حسنته فهو مؤمن". "كر".
35586 ۔۔۔ زاذان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) ہمارے پاس جابیہ میں تشریف لائے ایک اونٹ پر سوار ہو کر ان پر فصوانی جبر تھا اور ہاتھ میں چھڑی فرمایا اے لوگو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمائے ہوئے سنا پھر روپرے پھر فرمایا میں نے اپنے حبیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اے لوگو تم پر لازم ہے میرے صحابہ کرام (رض) کا احترام کرنا پھر ان کے بعد تابعین کا پھر ان کا بعد تبع تابعین کا ان تین زمانوں کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں کوئی خبر نہ ہوگی بغیر مطالبہ کے گواہی دیں گے وہ قسم کے مطالبہ کے بغیر قسمیں کھائیں گے جس کو جنت کے بیچ میں اترنے میں خوشی ہو وہ جماعت کا ساتھ دے سن لواکیلا شخص شیطان ہے وہ شیطان دو کی جماعت سے دور بھاگتا ہے جس کو گناہ سے پریشانی ہو اور نیکی سے خوشی ہو وہ مومن ہے۔ (ابن عساکر)